۲۹ مارچ ٢٠٢۴

تحریر : اعتزاز ابراہیم


لاہور

روشن خیال ترقی پسند سوچ رکھنے والے نامور صحافی و کالم نگارعرفان حیسن کو خراج عقیدت پیش کرنے اور ان کی صحافتی خدمات کو سراہنے کے لیے عرفان حسین کے منتخب کالمز پر مبنی کتاب    کی تقریب رونمائی لاہور میں ہیومن رائٹس کیمشن آف پاکستان کے آڈیٹوریم میں ہوئی۔تقریب میں عرفان حیسن کے قریبی دوستوں اور صحافتی دور میں ان کے ساتھ کام کرنے والے افراد نے شرکت کی ۔عرفان حسین پاکستان کے معروف اخبار ڈان میں ہفتہ وار کالمز لکھا کرتے تھے۔ وہ اپنی تحریروں میں ملک میں بڑھتی ہوئی انتہاپسندی، جنونیت، تنگ نظری کے خلاف آواز بلند کرتے رہے۔

عرفان حسین معروف دانشور ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری کے صاحبزادے تھے۔وہ 1994 میں امرتسرر میں پیدا ہوئے اور تقسیم کے بعد پاکستان کے شہر کراچی منتقل ہوگئے ۔ انہوں نے کراچی، پیرس اور انقرہ میں تعلیم حاصل کی اور معاشیات میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد 1976 میں سول سروس میں شمولیت اختیار کرلی۔اس دوران وہ مختلف کالمی ناموں کے ساتھ اخبارات میں کالمز لکھتے رہے۔

تقریب کے مقرر عرفان حیسن کے قریبی ساتھی نامور صحافی نجم سیٹھی نے انکو یاد کرتے ہوئے کہا کہ بہت کم لوگ ایسے ہیں جنہوں نے بلا خوف کھل کر اپنے نظریات کا پرچار کیا ہو۔

’’بڑے کم لوگ اس ملک میں ایسے رہے ہیں جنہوں نے کھبی اپنے سیاسی لبرل اور سیکولر نظریات کو چھپانے کی کوشش نہیں کی ہو ۔وہ کافی ادبی شخصیت تھے ان کے والد اور والدہ بھی کافی ادبی شخصیات تھی۔ ان کو کرکٹ میں کافی دلچسپی تھی۔ ان کو کھبی بھی پیسے بنانے کی خواہش نہیں تھی بہت سادہ آدمی تھے اور دوستوں کے دوست تھے ۔‘‘

نیشنل کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن کی سابق سربراہ خاور ممتاز نے عرفان حسین کے صحافتی کام کو سراہاتے ہوے کہا کہ وہ مشکل سے مشکل موضوع پر بڑی آسان فہم زبان استعمال کرتے تھے جو ہر ایک کو سمجھ آتی تھی۔

’’عرفان حسین کا ڈان میں ہر ہفتے کالم آیا کرتا تھا اس کالم کی خاصیت یہ تھی کہ وہ مشکل سے مشکل بات کو بڑے سادہ الفاظ میں پیش کرتے تھے جو ہر بندے کو سمجھ آتی تھی۔ان کی تحریروں میں مزاح کا عنصر بھی شامل تھا ۔ہر کوئی ان کے کالم کا انتظار کیا کرتا تھا ۔‘‘

عرفان حسین کے استاد جاوید علی خان کا وائس پی کے سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ وہ کافی جرات مند تھے انہیں ان کے طالب علمی کے زمانے سے انداز ہوگیا تھا کہ وہ کافی نام کمائے گے ۔

’’عرفان ان لوگوں میں سے ہے جو کسی سے ڈرتے نہیں تھے جن کو کوئی خرید نہیں سکتا تھا وہ سچ بات کرتے تھے ۔ کئی دفعہ ان کے ایڈیٹرز ان کے کالمز کو شائع ہونے سے روک دیا ضیا الحق کے دور میں سرکاری ملازم ہو کر بھی ان کے خلاف لکھتے رہے ۔‘‘

عرفان حیسن ان چند صحافیوں میں سے ہیں جنہوں نے ضیا الحق کی آمریت کا اپنی تحریروں کے ذریعے ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ عرفان حسین کا انتقال 16 دسمبر 2020 کو کینسر کے باعث ہوا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here