۱۵ مارچ ۲۰۲۴

تحریر : اعتزاز ابرہیم


لاہور

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اسپیشل جج سینٹرل ہمایوں دلاور کو اسد علی طور کی درخواست ضمانت پر کل بروز ہفتہ سولہ مارچ کو سماعت کر کے فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا۔ اس سے قبل جج ہمایوں دلاور نے چودہ مارچ کو اسد طور کی ضمانت کی درخواست پر بغیر کاروائی کے سماعت اٹھارہ مارچ تک ملتوی کر دی تھی.

ایف آئی اے نے اسد طور کو   سپریم کورٹ کے خلاف ’بد نیتی پر مبنی مہم‘ کے الزامات کے تحت 26 فروری کو گرفتارکیا تھا۔

اسد علی طور کی درخواست ضمانت کی سماعت آج چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق کی عدالت میں ہوئی ۔ اسد علی طور کی طرف سے وکیل ایمان مزاری پیش ہوئی ۔ اس موقع پر صحافی برداری کی بڑی تعداد بھی کورٹ روم میں موجود تھی ۔

دوران سماعت چیف جسٹس عامر فاروق نے وکیل ایمان مزاری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’اپنی پریشانی کو خود پر غالب نہ ہونے دیں ۔ میں سمجھتا ہوں اسد طور ایک صحافی ہے ، انتظامی طور پر دیکھتا ہوں جج ہمایوں دلاور نے درخواست ضمانت پر کیوں سماعت نہیں کی ۔جو بھی ہو گا قانون کے اندر رہ کر ہی ہو گا ، دیکھتا ہوں کیا کر سکتے ہیں‘‘۔

اسد علی کی طور کی وکیل ایمان مزاری نے چیف جسٹس عامر فاروق سے درخواست کی کہ وہ خود اس ضمانت کی پٹیشن پر سماعت کریں ۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا

’’دیکھیں اگر کچھ غلط ہوا بھی ہے تو ہم اسے قانون کے دائرے میں رہ کر ہی ٹھیک کر سکتے ہیں ۔ ہم دیکھیں گے اسد طور کے معاملے پر انتظامی سطح پر کیا کر سکتے ہیں‘‘۔

سماعت کے اختتام پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے مختصر آرڈر جاری کرتے ہوے ٹرائل کورٹ کو اسد علی طور درخواست ضمانت پر کل ہی فیصلہ کرنے کی ہدایات کی ۔واضح رہے کہ ٹرائل کورٹ نے درخواست ضمانت کو پیر کے لیے فکس کر رکھا تھا۔

پس منظر:

ایف آئی اے نے اسد طور کو انتخابات سے قبل تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو ’بلے‘ کے نشان سے محروم کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اعلٰی عدلیہ کے خلاف ’بد نیتی پر مبنی مہم‘ کے الزامات کے تحت 26 فروری کو گرفتارکیا تھا۔27 فروری کو اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی تضحیک کے کیس میں اسد طور کا 5 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا گیا تھا۔ 3 مارچ کواسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی تضحیک کے کیس میں گرفتار صحافی اسد طور کے جسمانی ریمانڈ میں 3 روزہ توسیع کردی تھی۔6 مارچ کواسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی تضحیک کے کیس میں صحافی اسد طور کو مزید 2 روزہ جسمانی ریمانڈ پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے حوالے کر دیا۔8 مارچ کو اسلام آباد کی مقامی عدالت نے اداروں کے خلاف مہم چلانے کے کیس میں اسد طور کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here