٢٧ مارچ ۲۰۲۴

تحریر : اعتزاز ابراہیم


لاہور

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججز کی طرف سے ’انٹیلی جنس ایجنسیز کی عدالتی امور میں مداخلت ‘ پر سپریم جوڈیشل کونسل کو خط کے معاملے پر لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے سپریم کورٹ آف پاکستان سے جوڈیشل انکوئری کرنے کا مطالبہ کر دیا۔لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن عہدارن نے خط کے معاملے پر آج ہائیکورٹ میں ہنگامی پریس کانفرنس کی ۔ اور خط میں جوڈیشل کنونشن بلانے کی بھی مطالبہ کی حمایت کی گئی ۔

صدر ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن اسد منظور بٹ کا وائس پی کے سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کسی بھی ادارے کا عدلیہ کے معاملات میں مداخلت کا کوئی حق نہیں جو کوئی ایسا کرئے گا ہم اس کے خلاف کھڑے ہوگے۔

’’ ہمارا شروع سے موقف ہے عدلیہ کا نظام شفاف ہونا چاہیے ۔خط میں جو خطرے کا اظہار کیا گیا ہے ہم اس کی مذمت کرتے ہیں کسی بھی قسم کے ادارے کی عدلیہ کے معاملات میں مداخلت نہیں ہونی چاہیے ۔جو ایسا کریں گا ہم اس کے خلاف کھڑے ہو گے۔‘‘

لاہور ہائیکورٹ بار ایسویسی ایشن کی سابق نائب صدر رابیعہ باجوہ کا خط کے معاملہ پر سپرپم کورٹ آف پاکستان سے فل کورٹ بنا کر اوپن کورٹ ٹرائل کرنے کا مطالبہ کر دیا ۔

’’اس خط سے نا صرف وکلا برادری بلکہ ہر شخص جو پاکستان کے آئین کو مناتا ہے اس کو تشویش ہے سپریم کورٹ کو چاہیے تھا کہ وہ فوری طور پر اس پر کاروائی کرتے ۔ہم چاہتے ہیں کہ چیف جسٹس آف پاکستان فل کورٹ بینچ بنا کر اس خط پر اوپن ٹرائل کریں۔‘‘

پاکستان بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے سابق سربراہ حسن رضا پاشا نے خط پر بات کرتے ہوئے کہہ کہ یہ جرات مندانہ قدم ہے اور جوڈیشل کنونشن بنانے کا مطالبہ بہت اہم ہے تاریخ میں ایسی مثال نہیں ملتی جس میں ایسا مطالبہ کیا گیا ہو۔

’’یہ خط بڑا جرت مندانہ قدم ہے اور خط میں جو جوڈیشل کنونشن بلانے کا مطالبہ بھی بہت اہم ہے کیونکہ تاریخ میں ایسی مثال نہیں ملتی جس میں جوڈیشل کنونشن بلا کر پاکستان کے تمام سینئر ججز کو کنونشن بلا کر اکٹھا کیا گیا ہو ۔‘‘

سپریم جوڈیشل کونسل کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جن چھ ججز نے خط لکھا ہے ان میں جسٹس بابر ستار، جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس سردار اعجاز اسحاق، جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس ثمن رفعت شامل ہیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ’انٹیلی جنس ایجنسیز عدلیہ کے کام میں مداخلت کر رہی ہیں۔ لہذا انٹیلی جنس اہلکاروں کے ججز کو دھمکانے کے معاملے پر جوڈیشل کنونشن بلایا جائے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here