١٢ مارچ  ٢٠٢۴

تحریر : اعتزاز ابراہیم


لاہور

پاکستان کے صوبے گلگت بلتستان کے رہائشی بجلی، موبائل فون سروسز اور انٹرنیٹ جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ۔گلگت بلتستان کے شہری علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 18 گھنٹے اور دیہی علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 22 گھنٹوں تک جا پہنچا۔ بجلی کی فراہمی نہ ہونے پر موبائل فونز اورانٹرنیٹ سروسز شدید تعطل کا شکار۔ کاروبار زندگی ٹھپ، سیاحتی شعبہ شدید خسارے کا شکار ۔مقامی صحافی شیر نادر نے وائس پی کے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ

’’کل گلگت بلتستان کے زیادہ تر لوگوں نے بجلی نہ ہونے کی وجہ سے اندھیرے میں سحری کی۔ صورت حال اس قدر سنگین ہے کہ دن میں صرف تین سے چار گھنٹے لائٹ آتی ہے اور باقی سارا دن بجلی نہیں ہوتی۔ بجلی نہ ہونے پر موبائل فون کپمنیز اپنے ٹاور بند کر دیتی ہیں جس سے موبائل فونز کی سروس بھی بند ہو جاتی ہے ۔پچھلے چار ماہ سے یہ صورت حال جاری ہے۔ ‘‘

سکردو میں سیاحت اور ٹورزم کے شعبہ سے وابستہ حامد حسین نے بجلی اور موبائل فون سروسز کے تعطل سے کاروبار پر اثرات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ،

’’کاروبار 30 فیصد تک رہ گیا ہے دن کے زیادہ تر اوقات میں بجلی بند رہتی ہے اور پٹرول اتنا مہنگا ہے کہ ہوٹل سے وابستہ لوگ سارا دن جنریٹر نہیں چلا سکتے ۔ سیاح جب اس طرح کی صورت حال دیکھتے ہیں تو کسی دوسرے علاقے کا رخ کر لیتے ہیں۔‘‘

دوسری طرف سپیکر گلگت بلتستان اسمبلی نزیر احمد ایڈووکیٹ نے بھی خراب انٹرنیٹ سروس کے حوالے متعدد شکایات موصول ہونے پر سختی سے نوٹس لے لیا. سپیکر اسمبلی نے شکایات کو پبلک پٹیشن میں تبدیل کرکے گلگت بلتستان اسمبلی کے رولز آف پروسیجر کے تحت کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے.سپیکر گلگت بلتستان نے انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس کی بلا روک ٹوک فراہمی کے لئے 7 رکنی خصوصی کمیٹی بھی قائم کردی۔

گلگت بلتستان اسمبلی سیکرٹریٹ سے جاری بیان میں سپیکر اسمبلی کا کہنا ہے کہ تعطل کا شکار انٹرنیٹ سروس کی وجہ سے گلگت بلتستان کے اندر مواصلاتی نظام درہم برہم ہے جسکی وجہ سے طلباء کی تعلیم، سرکاری و غیر سرکاری اداروں کا کام بری طرح متاثر ہورہا ہے جس سے ہمارے عوام کابراہ راست نقصان ہوتا ہے.سپیکر اسمبلی نے مزید کہا کہ ہے گلگت بلتستان میں اس وقت ذیادہ تر تعلیم یافتہ نوجوان فری لانسنگ سے اپنا روزگار کماتے ہیں. گزشتہ کئی ماہ سے خراب انٹرنیٹ سروس کی وجہ سے یہ طبقہ تقریباً بےروزگار ہوچکا ہے. سپیکر اسمبلی نے مزید بتایا کہ اس دور جدید میں بھی انٹرنیٹ سروس کا یہ حال ہونا انتہائی افسوسناک بات ہے. عوام کو مواصلاتی سہولیات کی فراہمی انکا بنیادی حق ہے اس اہم مسئلے پر مزید خاموش نہیں رہا جاسکتا ہے۔

گلگت بلتستان ڈیزاسٹراٹھارٹی کے اہکار وزیر محسن نے وائس پی کے کو بتایا کہ

’’ گلگت اس وقت مختلف علاقوں میں سلائیڈنگ اور برف باری ہو رہی ہے اور ریسکیو مشنز بھی جاری ہیں موبائل فون سگنلز اور انٹرنیٹ نہ ہونے کے باعث کمیونیکشن کا سسٹم بری طرح متاثر ہے اکثر علاقوں میں سیٹلائٹ فونز یا وائرلیس کیمونیکشن سسٹم استعمال کیا جا رہا ہے۔‘‘

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here