٢٦ مارچ ٢٠٢۴

تحریر : اعتزاز ابراہیم


لاہور

سٹیج تھیٹر آزادی اظہار کا ایک ذریعہ ہے لیکن پاکستان خصوصاَ پنجاب میں جہاں سٹیج ڈراموں کو کافی مقبولیت حاصل ہے اس پر فحاشی پھیلانے کا لیبل لگا کر اس کو سینسر کرنے کی بارہا کوششیں کی جاتیں  ہیں۔حالیہ پنجاب حکومت نے بھی کمرشل تھیٹر میں فحاشی کو روکنے کے نام پر ڈرامیٹک پرفارمنس ایکٹ 1876 میں ترامیم کر کے نیا آرڈینس پنجاب تھیٹریکل پرفارمنس آرڈیننس 2023 لاگو کر دیا ہے۔ جس میں کمرشل تھیٹرز کے اسکرپٹس کی سکروٹنی اور اسٹیج ڈراموں کی مانیٹرنگ سے لے کر تادیبی کارروائی تک تمام اختیارات محمکہ داخلہ پنجاب اور ضلعی انتطامیہ سے لےکر پنجاب آرٹس کونسل کو منتقل کردیے گئے ہیں۔

پنجاب آرٹس کونسل کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈرامہ اینڈ تھیٹر زاہد اقبال نے وائس پی کے سے بات کرتے ہوئے پنجاب آرٹس کونسل کے ایس او پیز کے کچھ اہم پہلو بھی بتائے جن کی بنا پر اسٹیج ڈرامہ اسکرپٹ کو سینسر کیا جاتا ہے اور تادبیی کارروائی کی جاتی ہے۔

’’اگر اسکرپٹ میں کوئی ایسے جملے یا لائن موجود ہو جو عوام کے لیے نا مناسب ہو اور جو ہوم ڈیپارٹمنٹ کے ایس او پیز کی خلاف ورزی ہو تو اس کو خذف کردیا جاتا ہے ۔ایس او پیز کے مطابق تھیٹرز کو پانچ گانے پرفارم کرنے کی اجازت ہے تو جب ہم ریہرسل پر جاتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں ڈانسرز کے لباس عریاں نہ ہو جس میں جسمانی نمائش نہ ہو ۔‘‘

اجوکا تھیٹر کے ڈائریکٹر شاہد ندیم کا کہنا ہے کہ اسکرپٹ کی سکروٹنی کی گنجائش موجود ہے لیکن سکروٹنی کا کام سرکاری افسران کا نہیں تھیٹر سےجڑے افراد کا ہے۔

45 سال سے اسٹیج ڈراموں سے منسلک پروڈیوسر و اسکرپٹ رائٹر راحیل شاہ کا حکومت سے شکوہ ہے کہ حکومت ایس او پیز کے نام پر تھیٹرز کی تالہ بندی تو کرتی ہے لیکن آج تک ایک بھی اکیڈمی ایسی نہیں بنائی گئی جہاں ان ایس او پیز کے بارے میں آگاہی دی جائے ۔

’’ گورنمنٹ آف پاکستان نے 76 سال نے کوئی اکیڈمی نہیں بنائی اور اس کو صنعت سمجھا ہی نہیں.‘‘

سٹیج ڈرامہ جسے آسان زبان میں تھیٹر بھی کہا جاتا ہے فنون لطیفہ کی قدیم ترین شکلوں میں سےایک ہے۔ تھیٹر نہ صرف تفریح بلکہ سماجی اصلاح کا بھی ایک ذریعہ ہے۔ تھیٹر کے ذریعے سے معاشرے کے پیچیدہ موضوعات کو طنز و مزاح کی صورت عوام میں پیش کیا جاتا ہے۔ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ سٹیج تھیٹر پہ فحاشی کے نام پر پابندی لگائی گئی ہو۔ اس سے قبل بھی پنجاب کی گزشتہ نگران حکومت میں وزیر اطلاعات و ثقافت عامر میر کے دور میں لاہور سمیت پنجاب بھر کے تھیٹرز کو فحاشی پھیلانے کےالزام میں بند کیا جاتا رہا ہے اور فنکاروں پر پابندیاں عائد کی جاتی رہی ہیں ۔تھیٹر کے شبعہ سے سینکڑوں خاندانوں کا روزگار وابستہ ہے لیکن حکومتی پابندیوں اور تھیٹرز کی تالہ بندی کے باعث ان خاندانوں کے مالی حالات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here