١١ مارچ ۲۰۲۴

تحریر : اعتزاز ابراہیم


لاہور

گزشتہ روزالیکشن میں مبینہ دھاندلی اور مخصوص نشتیں نہ ملنے پر پاکستان تحریک انصاف کا لاہور کے مختلف علاقوں میں احتجاج ہوا جس میں ساٹھ سے زائد کارکنان پر مقدمات درج کئے گئے۔ تحریک انصاف کی کال پر کارکنان جب ریلی کی صورت میں لاہور کے جی پی او چوک پہنچے توریلی کو روکنے کیلئے پولیس نے کارکنوں پر دھاوا بول دیا ۔
پولیس کی جانب سے کارکنان پر لاٹھی چارج کیا گیا اور کارکنان کو گاڑیوں سے اتار کر گرفتار کیا گیا۔ جی پی او چوک سے پچاس کے قریب کارکنان و رہنماوں کو گرفتار کیا گیا۔ پاکستان تحریک انصاف کے ممبر پنجاب اسمبلی فرحت عباس ، مقصود صابر انصاری ٹکٹ ہولڈر این اے 131 , مہر سلیم ایڈووکیٹ ٹکٹ ہولڈر پی پی 177، بیرسٹر شاہد مسعود ٹکٹ ہولڈر پی پی 178، سردار نادر فاروق ٹکٹ ہولڈر پی پی 179 کو گرفتار کیا گیا۔
اور بعد ازں ان پر تھانہ انارکلی میں پولیس کی مدعیت میں دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ۔ ایف آئی آر میں پولیس کی طرف سے موقف اختیار کیا گیا کہ پی ٹی آئی ممبر پنجاب اسمبلی فرحت عباس کی قیادت میں 60 کے قریب ڈنڈہ بردار مشتعل کارکنان پولیس پر حملہ آور ہوئے اور املاک کو نقصان پہنچایا جبکہ فرحت عباس اور چار سے پانچ نامعلوم افراد کی طرف سے پولیس کی گاڑی پر فائرنگ بھی کی گئی۔ ایف آئی آر میں دعوی کیا گیا کہ ان افراد نے ایک پولیس اہلکار کو اغوا بھی کیا جس کو بعد میں بازیاب کروایا گیا۔

دوسری طرف احتجاج کرنے پر پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی لطیف کھوسہ کو لاہور کے علاقے کینٹ اور پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجہ کو اچھرہ سے حراست میں لے لیا گیا اور تھانہ شمالی چھاؤنی میں پولیس کی مدعیت میں لطیف کھوسہ کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ مقدمہ لطیف کھوسہ سمیت 20 نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کیا گیا۔ بعد ازاں سلمان اکرم راجہ اور لطیف کھوسہ کو رات گئے شخصی ضمانت پر رہا کردیا گیا۔
لطیف کھوسہ کے بیٹے بلخ شیر نے وائس پی کے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ

’’ کارکنان پر دہشت گردی کے مقدمات درج کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ان کو ضمانت سے محروم رکھا جائے اور ان کے دل میں خوف اور ڈر پیدا ہو تاکہ دھاندلی زدہ حکومت کے خلاف آئندہ کوئی احتجاج نہ کرسکے”۔ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کو مخاطب کر تے ہوئے انہوں نے کہا کہ مریم نواز اپنے اوچھے ہتھکنڈوں سے باز آئیں۔ ہمارےکارکنان کوئی دہشت گرد نہیں کہ ان پر دہشت گردی کے مقدمات درج کئے جائیں۔ احتجاج سب کا آئینی حق ہے‘‘۔

ہیومن رائٹس کیمشن آف پاکستان نے پی ٹی آئی کارکنان اور رہنماوں کی گرفتاریوں پر مذمتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ

’’تمام شہریوں کو، ان کی سیاسی وابستگی سے قطع نظر، آزادانہ اور پرامن طریقے سے جمع ہونے کا آئینی طور پر حق محفوظ ہے۔ پنجاب حکومت کو اپنے سیاسی حریفوں کے اس حق کا احترام کرنا چاہیے اور اگر ریاست پر لوگوں کا اعتبار بحال رکھنا ہے تو اس کو حق کو برقرار رکھنا ہو گا‘‘۔

پی ٹی آئی رہنما حماد اظہر نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ

’’پرامن احتجاج کرنے پر ہمارے کارکنان پر دہشت گردی کی دفعات پر مبنی جھوٹی ایف آئی آر درج کرنے کا مقصدازخود دہشت گردی پھیلانا اور لوگوں کو ڈٓرانا ہے‘‘ ۔

جی پی او چوک پر پی ٹی آئی کے احتجاج کی کوریج کرنے والے صحافیوں پر تشدد بھی کیا گیا اور پنجاب پولیس کی طرف سےصحافیوں کے موبائل فونز چھیننے کی بھی کوششیں کی گئیں۔پی ٹی آئی رہنما لطیف کھوسہ کا کہنا ہے کہ ان کا یہ احتجاج تب تک جاری رہے گا جب تک ان کی جماعت کو ان کا چوری کیا گیا مینڈیٹ واپس نہیں مل جاتا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here