۱۸ مارچ ۲۰۲۴

تحریر : اسد بلوچ

ویڈیو : اعتزاز ابراہیم


تربت 

بلوچستان کے ضلع کیچ سے تعلق رکھنے والے سرگودھا میڈیکل کالج کے طالب علم کی بازیابی کے لیے سی پیک شاہراہ پر دو دنوں سے احتجاج کے باعث ضلع کیچ کا صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔ایم ایٹ شاہراہ پر طالب علم خدا داد سراج کی فیملی سے تعلق رکھنے والی خواتین کے علاوہ عام شہریوں نے بھی دھرنا دے رکھا ہے۔مظاہرین کے مطابق خداداد سراج سرگودھا میڈیکل کالج میں پیتھالوجی لیب سائنسز کے طالب علم ہیں۔ انہیں 8 مارچ کی رات جمعے کی شب 8:30 بجے کے قریب ایک سفید رنگ کی کار میں سرگودھا کے الرشید ہسپتال کے سامنے ظفر اللہ چوک سے نامعلوم افراد نے اغواء کیا۔

طالب علم خداداد کی جبری گمشدگی کے خلاف ان کے اہل خانہ اور علاقہ مکینوں نے گزشتہ جمعرات کو تجابان کرکی کے مقام پر سی پیک شاہراہ ایم ایٹ کو بلاک کردیا تھا تاہم انتظامیہ کی جانب سے ان کی بازیابی کی یقین دہانی پر احتجاج مشروط طور پر ختم کردیا گیا تھا۔ لیکن خدا داد کی بازیابی نہ ہونے پر دوبارہ سے دھرنے کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

اہل خانہ کے مطابق خدا داد سراج تعلیم کی غرض سے سرگودھا میڈیکل کالج میں زیر تعلیم ہیں، انہیں نامعلوم وجوہات کی بنا پر مسلح افراد نے اغوا کے بعد لاپتہ کردیا اور اس بارے میں انہیں کوئی معلومات بھی فراہم نہیں کی گئیں۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ خداداد سراج کو بلاوجہ جبری گمشدگی کا شکار بنانا خلاف آئین ہے۔ اگر وہ کسی جرم میں شامل رہے ہیں جس کی قانون کے مطابق سزا ہوسکتی ہے تو انہیں عدالتوں میں پیش کیا جائے یا ہمیں کم از کم ان کے بارے میں معلومات دی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب گزشتہ جمعرات کو انہوں نے خداداد کی بازیابی کے لیے سی پیک شاہراہ پر دھرنا دیا تو انہیں ان کی بازیابی کی شرط پر احتجاج ختم کرنے کا کہا گیا تھا مگر انتظامیہ اپنا وعدہ پورا نہیں کرسکی اس لیے انہوں نے دوبارہ سی پیک شاہراہ مجبوراً بلاک کردی ہے۔

مظاہرین کے مطابق جب تک خداداد سراج کو بازیاب نہیں کیا جاتا سی پیک شاہراہ ایم ایٹ پر احتجاج جاری رکھیں گے۔سی پیک شاہراہ پر دھرنے کے باعث سڑک کے دونوں اطراف سفر کرنے والے مسافروں کی بڑی تعداد پھنس گئی ہے جب کہ درجن سے زائد گاڑیاں راستہ کھلنے کے انتظار میں سڑک کے کنارے کھڑی ہیں۔ اس سے قبل ضلع کیچ میں تین مختلف مقامات پر لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے مظاہرین نے ایم ایٹ شاہراہ تربت ہوشاپ سیکشن اور گوادر میں کوسٹل ہائی وے ایم ایٹ کو بھی بلاک کیا تھا۔

تاہم کوسٹل ہائی وے ایم ایٹ پر دو دنوں سے جاری دھرنا اتوار کو رات گئے مذاکرات کے نتیجے میں مشروط طور پر ختم کردیا گیا جس کے تحت انتظامیہ نے گوادر سے لاپتہ کیے گئے زاکر ولد عبدالرزاق اور لالا رفیق کو بازیاب کرانے کی یقین دہانی کرائی۔ ایم ایٹ کارواٹ زیروپوائنٹ پر دھرنے کے سبب ضلع کیچ اور گوادر کا کراچی سے زمینی رابطہ دو دنوں تک منقطع رہا تھا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here