٨ اپریل ٢٠٢۴

تحریر : اعتزاز ابراہیم


لاہور

حال ہی میں فیصل آباد کی تحصیل تاندلیانوالہ میں مقامی دینی مدرسے کے ایک معلم کی طرف سے مبینہ طور پر کمسن بچے سے ریپ کی کوشش کرنے کا واقعے سامنے آیا ۔جسے با اثر لوگوں اور غیر قانونی مقامی پنچایت کے ذریعہ فریقین کی صلح کروانے اور اس کے نتیجے میں ملزم کی رہائی کروا کر معاملہ کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔ البتہ سوشل میڈیا کے دباؤ اور سماجی حلقوں کی تنقید پر پنجاب پولیس نے خود ملزم کی رہائی کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ۔بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے پیش آنے والے اکثر واقعات میں پولیس اور بااثر افراد کی طرف سے معاملے کو دبانے اور اسے ماروائے عدالت سمجھوتے کر کہ ختم کرنے کا ایک رجحان پایا جاتا ہے ۔

فوجداری مقدمات کے ماہر وکیل عمران رانا کا وائس پی کے سے بات کرتے ہوئے اپنے ایک کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہہ کہ

’’میرے پاس ایک پانچ سے چھ سال کے بچے کا کیس آیا اس کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے پولیس نے اس کیس کو زیادتی کی کوشش میں تبدیل کردیا اور بچے کے باپ کو بار بار کہا کہ زیادتی کا کیس کرنے پر آپکی معاشرے میں بدنامی ہو جائے گی ۔تمام ثبوتوں اور ڈاکٹروں کی میڈیکل رپورٹس کے مطابق بھی زیادتی ہوئی تھی ۔لیکن پولیس والوں نے سمجھوتہ کروانے کے لیے اس کیس کو تبدیل کر دیا ۔‘‘

لیکن کیا بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی جیسے سنگین جرائم میں پاکستان کے قانون میں ماروائے عدالت سمجھوتے کی گنجائش موجود ہے ؟

 ماہر قانون دان اسد جمال کا اس سوال کا جواب نفی میں دیا ہے ان کا کہنا تھا کہ

’’بچوں اور خواتین کے ساتھ جو جنسی جرائم ہوتے ہیں ان میں ماوراء عدالت سمجھوتہ کی گنجائش قانون میں موجود نہیں ہے ۔‘‘

پاکستان میں بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ساحل کی سال 2023 کی رپورٹ کے مطابق میڈیا میں رپورٹ ہونے والے بچوں سے جنسی زیادتی، کم عمری کی شادی، اغوا اور لاپتہ ہونے کے کل 4213 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سے 2325 لڑکے جبکہ 1928 لڑکیاں تھیں۔

نیشنل کمیشن آن دی رائٹس آف چائلڈ (این سی آر سی) کی چیئرپرسن عائشہ رضا فاروق کا وائس پی کے سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ بچوں کے تخفظ کے بہت سخت قوانین موجود ہیں ۔

’’پاکستان میں بچوں کے تحفظ کے لیے قوانین وفاقی اور صوبائی سطح پر موجود ہیں ۔ بچوں کو جنسی جرائم سے تحفظ کے لیے اینٹی ریپ ایکٹ 2021 موجود ہے ۔ اور اس ایکٹ کے تحت فریقین آپس میں کوئی راضی نامہ نہیں کرسکتے ۔‘‘

جب پاکستانی قانون میں بچوں کے ساتھ جنسی جرائم میں سجھوتہ کی گنجائش موجود نہیں تو اس طرح کے کیسز کو کیسے سمجھوتہ کروایا جاتا ہے ۔وکیل عمران رانا اس بارے میں کہتے ہیں کہ

”جب ہمارے پاس ایسے کیسز آتے ہیں تو پہلے تو شہری خود بدنامی سے ڈرتے پولیس کے پاس نہیں جاتے۔ اور پھر پولیس کا رویہ بھی ایسا ہوتا ہے کہ وہ عدالتوں میں جانے کی بجائے فریقین کی آپس میں صلح کروانے کی کوشش کرتے ہیں اور قانون میں جب راضی نامے کے گنجائش نہ ہو وہ کیس کا رخ تبدیل کر دیتے ہیں ۔‘‘

پاکستان کے عدالتی نظام کی ست روی ، پیچیدگی اور کیسز کے فیصلوں کے لئے سال ہاں سال انتظار کے باعث شہری ان غیر قانونی جرگوں اور آپسی سمجھوتوں کو ترجیح دیتے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here