۲ اپریل ٢٠٢۴

تحریر :اعتزاز ابراہیم


لاہور 

لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس عاصم حفیظ نے وکیل حذیفہ نعیم سہگل کی جانب سے ایکس سروسز کی بحالی کیلئے دائر درخواست پر آج سماعت کی۔درخواست میں استدعا کی گئی کہ لاہور ہائیکورٹ ایکس (ٹویٹر) کی بندش کو غیر قانونی قرار دے اور ایکس (ٹویٹر) تک عوام کی رسائی کو یقینی بنایا جائے۔

پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی طرف سے ان کے وکیل عدالت میں پیش ہوئے ۔ دوران سماعت وکیل پی ٹی اے کا عدالت کو دلائل دیتے ہوئے کہنا تھا کہ اسی طرح کی ایک پٹیشن لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد بلال اسلم کی عدالت میں پینڈنگ ہے موجودہ درخواست کو خارج کر دیا جائے یا دونوں درخواستوں کو یکجا کیا جائے۔

جس پر جج عاصم حفیظ کا کہنا تھا کہ آپ اس درخواست کی فکر نہ کریں اسے اپنی جگہ پر چلنے دیں آپ عدالت کو بتائیں کہ پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن کے پاس ایکس اور سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کے کیا قوانین ہیں ۔ کن قوانین کے تحت سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کیا جاتا ہے۔

جج عاصم حفیظ نے وکیل پی ٹی اے سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ

’’ مجھے آپ یہ نہیں کہیں گا کہ ہم ( پی ٹی اے) سوشل میڈیا کو ریگولیٹ نہیں کر رہے ۔ آپ عدالت کو یہ بتائیں کہ پی ٹی اے کہ سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کے کیا قوانین ہیں ۔‘‘

عدالت نے پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے وکیل کو تفصیلات کے ساتھ جواب جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 29 اپریل تک ملتوی کردی ۔

درخواست گزار وکیل حذیفہ نعیم سہگل کا وائس پی کے سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ

۔’’پاکستان کا آئین ہر شخص کو آزادئ اظہار کا حق دیتا ہے۔ایکس کے پلیٹ فورم پر پاکستانی لاکھوں کی تعداد میں موجود ہیں جو وہاں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔ اس پر پابندی آئین کی کھلی خلاف ورزی ہے جس پرمیں نے 5 مارچ کو لاہور ہائیکورٹ میں اس پابندی کے خلاف رٹ پٹیشن دائر کی‘‘۔

لاہور ہائیکورٹ میں ہی مقامی صحافی شاکر محمود اعوان کی طرف سے بھی ایکس پر پابندی کے خلاف دی گئی درخواست جسٹس شاہد بلال کی عدالت میں زیر سماعت ہے۔ جس میں عدالت نے فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے 18 اپریل کو جواب طلب کر رکھا ہے ۔

یاد رہے کہ پاکستان میں جنرل الیکشن 2024 کے بعد سے ایکس گزشتہ دو ماہ سے بند ہے اور سندھ ہائی کورٹ میں اس بندش کے خلاف کیس میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی طرف سے پیش کردہ دستاویزات میں اعتراف کیا گیا ہے کہ پی ٹی اے نے سابقہ ٹوئٹر اور موجودہ ایکس پر جو پابندیاں لگائیں، ان کا حکم وفاقی وزارت داخلہ نے دیا تھا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here