٩ اپریل ۲۰۲۴

تحریر : اعتزاز ابراہیم


لاہور

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ ملک شہزاد احمد خان نے ہائی کورٹ کے جج سلطان تنویر سے بدتمیزی کرنے والے وکیل زاہد محمود گورائیہ کو 6 ماہ قید کی سزا کے ساتھ ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا۔چیف جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے زاہد محمود گورائیہ کے خلاف توہین عدالت کا جرم ثابت ہونے پر  پیر کے روز فیصلہ سنایا، وکیل کی جانب سے معافی کی درخواست کی گئی جسے مسترد کر دیا گیا۔ وکیل زاہد محمود گورائیہ نے دوران سماعت کہا کہ ’’ میں عدالت سے معافی کا طلبگار ہوں، مجھے سزا مل بھی جائے تو میں پھر بھی معافی کا طلب گار ہوں‘‘۔

جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’’ معافی اللہ سے مانگیں، میں کمزورآدمی ہوں، میں نےآئین کے تحت حلف اٹھایا ہے۔‘‘

عدالت نے ساڑھے 3 گھنٹے سے زائد سماعت کے دوران 3 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے۔ چیف جسٹس نے وکیل کی جانب سے کارروائی عید کے بعد تک ملتوی کرنے کی استدعا بھی مسترد کی۔

صدر لاہور ہائیکورٹ بار ایویشن اسد منظور بٹ بھی سماعت کے دوران کمرہ عدالت میں موجود رہے اور چیف جسٹس سے وکیل زاہد محمود کے لئے معافی کی درخواست کی اورکہا کہ وہ جسٹس سلطان تنویر سے جاکر معافی مانگ لیں گے۔ جسے عدالت کی طرف سے مسترد کر دیا گیا۔

چیف جسٹس نے کیس کا فیصلہ کرتے ہوئے بدتمیزی کرنے والے وکیل ایڈووکیٹ زاہد محمود گورائیہ کو چھ ماہ کے لئے جیل بھجوانے کا حکم دے دیا اور ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کردیا۔صدر لاہور ہائیکورٹ بار ایویشن اسد منظور بٹ کا وائس پی کے سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ

’’زاہد محمود نے معافی مانگ لی تھی چیف جسٹس کو ہمدردی کا مظاہر کرتے ہوئے انکی معافی کو قبول کرنا چاہیا تھا۔ فیصلے کے خلاف اپیل دائر کریں گے۔‘‘

منیر بھٹی صدر لاہور بار ایسوسی ایشن کا فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ

’’یہ ٖفیصلہ غیر قانونی ہے حقائق کو توڑ مڑور کر چیف جسٹس کے سامنے پیش کیا گیا ہے زاہد محمود نے بدتمیزی نہیں کی واقعہ یہ ہوا ہے کہ ایک کیس کی سماعت کے دوران ساتھی وکیل نے زاہد محمود سے کتاب مانگی اور انہوں نے کتاب پکڑی جس پر جج صاحب ہرہم ہوگئے اور کہا کہ آپ کورٹ روم کا ڈی کورم خراب کر رہے ہیں اور جج صاحب اٹھ کر چلے گئے اور واقع کی جو ویڈیو منظر عام پر آئی ہے وہ بھی کسی اور نے بنائی ہے ۔ چھ ماہ کی سزا سراسر زیادتی ہے‘‘۔

لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی سابق سیکرٹری صباحت رضوی کا کہنا تھا

’’بار اور بینچ کے درمیان پہلے ہی ماڈل ٹاون کچہری کے معاملے میں ایک سرد جنگ جاری ہے اور اس طرح کے ٖفیصلے سے بار اور بینچ کے درمیان مزید فاصلے بڑھے گے ۔ چھ ماہ کی سزا بہت زیادہ ہے اگر چیف جسٹس صاحب انہیں غلطی کا احساس ہی دلانا چاہتے تھے تو انہیں ورننگ دے دیتے یا ان کا معاملہ پنجاب بار کونسل کو بھیج دیتے یا ان کو عدالتی کاروائی کو ہی سزا بنا دیتے ‘‘۔

یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل ایک کیس کی سماعت کے دوران زاہد محمود گورائیہ کی جسٹس سلطان تنویر سے تلخ کلامی ہوئی اور واقعہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ۔ جس پر جج سلطان تنویر نے وکیل زاہد محمود کے خلاف توہین عدالت کا ریفرنس چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ ملک شہزاد احمد خان کو بھجوایا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here