٨ اپریل ٢٠٢۴

تحریر : اعتزاز ابراہیم


لاہور

کراچی کی سیشن عدالت نے بچی کی ولدیت تسلیم کرنے سے انکار اور سابقہ بیوی پر زنا کا جھوٹا الزام لگانے پر فرید قادر نامی شخص کو 80 کوڑوں کی سزا سنادی۔ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج (ملیر) شہناز بوہیو نے فرید قادر کو قذف کے جرم (نفاذ حدود) آرڈیننس 1979 کے سیکشن 7(1) کے تحت مجرم قرار دیا۔آرڈیننس کی مذکورہ دفعہ میں لکھا ہے کہ ’’جو شخص قذف کا ارتکاب کرے گا اسے 80 کوڑوں کی سزا دی جائے گی‘‘۔

جج نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ ’’بالکل واضح ہے کہ ملزم جھوٹا ہے اور اس نے شکایت کنندہ پر اپنی بیٹی کے ناجائز ہونے کے بارے میں قذف کا الزام لگایا تھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ سزا سنائے جانے کے بعد وفاقی شرعی عدالت سے سزا کی توثیق کے بعد اس ملزم کی شہادت کسی بھی عدالت میں قابل قبول نہیں ہوگی‘‘۔

 

فیصلے میں کہا گیا کہ چونکہ ملزم کو صرف کوڑوں کی سزا سنائی گئی ہے اس لیے وہ ضمانت پر رہے گابشرطیکہ وہ اس عدالت کی طرف سے سزاکی تصدیق کے بعد، کوڑوں کی سزا پر عمل درآمد کے لیے مقرر کردہ وقت اور جگہ پر حاضر ہونے پر راضی ہو۔ ساتھ ہی عدالت نے مجرم کو ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کی بھی ہدایت کی۔

مجرم کی سابقہ بیوی نے عدالت میں درج کرائی شکایت میں کہا تھا کہ ان دونوں کی شادی فروری 2015 میں ہوئی تھی اور وہ ایک ماہ تک ساتھ رہے۔ دسمبر 2015 میں خاتون نے ایک بچی کو جنم دیا تاہم اس کے سابق شوہر نے اسے نان نفقہ فراہم کرنے اور اسے اپنے گھر واپس لے جانے سے انکار کیا۔ جب اس نے فیملی کورٹ کا رخ کیا تو جج نے خاتون کے حق میں حکم سنایا اور مجرم کو ہدایت کی کہ وہ اپنی بیٹی اور سابقہ بیوی کو کفالت فراہم کرے۔

تاہم شوہر نے اس دوران عدالت میں دو درخواستیں جمع کرائیں، جن میں بچی کا ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کی استدعا کی اور اسے اپنی بیٹی تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا۔ بعد ازاں مجرم نے یہ دونوں درخواستیں واپس لے لی تھیں۔

تاہم شکایت گزار نے سابقہ شوہر کی جانب سے لگائےگئے ان سنگین الزامات پر تعزیرات پاکستان کے علاوہ قذف آرڈیننس 1979 کے تحت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ (ملیر) میں درخواست دائر کی۔مقدمے کی سماعت کے دوران ملزم نے اپنی سابقہ بیوی کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ شادی کے بعد صرف 6 گھنٹے تک اس کے ساتھ رہی، جس کے بعد گھر سے چلی گئی اور کبھی واپس نہیں آئی۔

عدالت نے کہا ملزم نےاپنے دفاع میں کوئی گواہ پیش نہیں کیا اور دوران سماعت ملزم کی طرف سے معافی کی بھی کوئی درخواست نہیں دائر کی گئی۔ ملزم نے سابقہ بیوی پر بدکاری کے الزامات سے بھی انکار نہیں کیا۔ عدالت نے جھوٹا الزام لگانے پر مجرم قرار دے کر 80 کوڑے لگانے کی سزا سنادی۔

لاہور ہائیکورٹ کے وکیل شبیر حسین کا فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ

’’ملزم پر قذف ثابت ہوا ہے اور قذف کی سزا پاکستان کے قانون کے مطابق 80 کوڑے ہیں۔ جج کی طرف سے قانون کے مطابق ہی سزا سنائی گئی ہے۔ اگر شعریعت کورٹ کی طرف سے سزا کو برقرار رکھا جاتا ہے تو یہی سزا ملے گی۔‘‘

قذف کیا ہے؟

کسی پاک دامن مرد یا عورت پر بدکاری کی تہمت لگانا یا ایسی بات کہنا جس کا صریحاً مطلب یہ ہوکہ وہ بدکار ہے، قذف کہلاتا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here