١٥ اپریل ۲۰۲۴

تحریر:اعتزاز ابراہیم


لاہور

مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں توہین مذہب کے الزام میں تشدد کے بعد قتل کیے جانے والے طالب علم مشال خان کی ساتویں برسی گزشتہ روز اُن کے آبائی علاقے صوابی میں منائی گئی۔صوابی کے علاقے زیدہ میں برسی پر مشال خان کے والد اقبال خان نے مشال کی قبر پر حاضری دی اور پھولوں کی چادر چڑھائی ۔مشال عبدالولی خان یونیورسٹی میں شبعہ صحافت کے طالب علم تھے ۔جہنیں 13 اپریل 2017 کو یونیورسٹی میں مشتعل طلبہ نے توہین مذہب کا الزام لگا کر شدید تشدد کے بعد قتل کیا۔

مشال خان کی برسی پر ان کے والد اقبال خان کا وائس پی کے سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ مشال ایک سچا انسان تھا جو سچائی کے راستے میں مارا گیا ۔میری اعلی عدلیہ سے جلد انصاف کی اپیل ہے ۔

’’مشال خان پر ظلم اور جبر کیا گیا ہے مشال ایک سچا انسان تھا جو سچائی کے راستے میں مارا گیا تمام انسانیت اس پر افسوس کر رہی ہے جو بھی بینچ بنے ان سے میری انصاف کی درخواست ہے ،‘‘

مشال خان کیس اپیل اس وقت سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اور پچھلے دو سال سے تاریخ مقرر نہ ہونے پر کیس کے وکیل عابد ساقی کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ سیاسی اور ہائی پروفائل کیسز کی سماعت میں اتنی مصروف ہے کہ عام آدمی کو تاریخ کے لئے سالوں انتظار کرنا پڑ رہا ہے ۔

’’ مشال کے والد کی طرف سے ہم نے تمام ملزمان کے خلاف اپیل فائل کر رکھی ہے معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے ۔ سپریم کورٹ میں اب صورت حال یہ ہے کہ ان کو ہائی پروفائل کیسز سننے سے فرصت نہیں اور عام آدمی کو سالوں تاریخ کا انتظار کرنا پڑتا ہے ۔‘‘

مشال خان قتل کیس میں ہری پور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 7فروری 2018 کو مرکزی ملزم عمران علی کو جرم ثابت ہونے پر پھانسی کی سزا ،پانچ مجرمان کو عمر قید کی سزا ،25 مجرموں کو چار چار سال کی قید سنائی گئی جبکہ 26 کو ناکافی ثبوتوں کی بنا پر رہا کر دیا تھا ۔البتہ اپیلوں اور مزید عدالتی کاروائی پر سزا پانے والے 25 مجرمان کو بھی ضمانت پر رہا اور مرکزی ملزم عمران علی کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔جس پر مشال خان کے والد نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا اور کیس ایپل تاحال سپرم کورٹ میں التو کا شکار ہے اور مشال کےاہل خانہ انصاف کے منتظر ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here