٢٧ مئی ٢٠٢۴

تحریر : اعتزاز ابراہیم


لاہور

سرگودھا کی مجاہد کالونی میں ہفتے کے روز مبینہ توہین مذہب کے الزام میں مشتعل افراد کا مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے رہائشی نذیر کی فیکٹری و گھر جلانے اور فیملی کو جان سے مارنے کی کوشش کرنے والوں میں سے سو سے زائد ملزمان کو پولیس نے گرفتارکر لیا۔ واقعہ کی ایف آئی آر پولیس کی مدعیت میں درج کی گئی۔

واقعہ ایف آئی آر کاپی

ایف آئی آر 44 نامزد اور 400 سے 450 نامعلوم مرد و خواتین پر درج کی گئی ۔ ایف آئی آر میں دہشت گردی ، جلاو گھیروا کرنے ، جان سے مارنے اور املاک کو نقصان پہنچانے کی دفعات شامل ہیں۔ایف آئی آر کے متن کے مطابق قرآن کے اوراق جلانے کا سن کر مشتعل ہجوم نے نذیر مسیح کے گھر کا گھیراو کیا۔ ہجوم ڈنڈے ،سوٹے اینٹوں اور پتھروں سے لیس تھا۔ مشتعل ہجوم نے نذیر کی ملکیتی فیکٹری اور گھر کو آگ لگا دی ۔ پولیس نے ریسکیو کر کے نذیر کو گھر سے باہر نکالا تو مشتعل ہجوم حملہ آور ہوگئے اور جان سے مارنے کی کوشش کی جس سے نذیر شدید زخمی ہوگیا۔ پولیس خود بھی ریسکیو کی کوششوں میں زخمی ہوئی۔

دوسری طرف مشتعل ہجوم کے ہاتھوں زخمی ہونے والے نذیر مسیح پر بھی توہین مذہب کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا ہے ۔ مقدمہ مجاہد کالونی کے رہائشی جہانگیر کی مدعیت میں درج کیا گیا ۔ ایف آئی آر کے متن کے مطابق نذیر نے قرآن کے اوراق جلا کر بے حرمتی کی اور مسلمانوں کے جذبات مجروح کئے ۔

سرگودھا پولیس کےترجمان خرم کا وائس پی کے سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ

’’ پولیس نے سی سی ٹی وی اور سوشل میڈیا کی وائرل فوٹیج سے ٹریس کر کے سو سے زائد ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے اور باقی کی تلاش جاری ہے ۔ ‘‘

نذیر مسیح پر توہین مذہب کی ایف آئی آر درج ہونے اور اس الزام کی تحقیقات کے سوال پر انکا کہنا تھا کہ ’’ جہانگیر ( مجاہد کالونی رہائشی ) کی طرف سے درخواست مقدمہ درج جمع کروائی گئی ۔ نذیر ابھی زخمی حالت میں ہسپتال میں ہے اس الزام کی صداقت کے متعلق کوئی بات کرنا قبل از وقت ہے تحقیقات سے جلد سچ سامنے آجائے گا۔‘‘

سرگودھا میں ایک ہفتے کے لیے دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے جس کے تحت ضلع بھر میں ہر قسم کے جلسے جلوس اور ریلیاں نکالنے پر پابندی عائد ہوگی اس کا اطلاق فوری طور پر کردیا گیا ہے اور یہ حکم 31 مئی کی رات 12 بجے تک رہے گا۔ دفعہ 144 کا نفاذ ڈپٹی کمشنر سرگودھا کی طرف سے کیا گیا ہے۔

انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس ڈاکٹر عثمان انور نے ہفتہ کی شام سرگودھا کا دورہ کیا اور جائے وقوعہ کا معائنہ کرکے پولیس فورس سے ملاقات کی۔ ڈاکٹر عثمان انور کا اس موقع پر کہنا تھا کہ واقعے میں ملوث افراد کے حوالے سے ہمارا طریقۂ کار واضح ہے کہ کسی بے گناہ کو سزا نہیں ہوگی اور کسی گناہ گار کو چھوڑا نہیں جائے گا۔ توہینِ مذہب کے حوالے سے قوانین موجود ہیں۔ ان قوانین پر عمل کروانا ریاست کا کام ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here