٢٩ مئی ۲۰۲۴

تحریر :بلال بصیر


اسلام آباد

اسلام آباد ہائی کورٹ میں شاعر احمد فرہاد بازیابی کیس کے دوران سماعت میں اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے عدالت کو بتایا کہ لاپتہ ہونے والے احمد فرہاد کا پتا لگا لیا گیا ہے۔ وہ گرفتار ہیں اور آزاد کشمیر کے تھانہ دھیرکوٹ پولیس کی تحویل میں ہیں۔ اٹارنی جنرل نے تھانہ دھیر کورٹ کی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش کردی۔

احمد فرہاد کی بہن وحیدہ طاہر نے وائس پی کے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آج ان کی زندگی کا ایک خوبصورت دن ہے جب ان کے بھائی کو ایک نئی زندگی ملی۔

انہوں نے کہا ‘ اگرچہ احمد فرہاد کی بازیابی کی اتنی جلد امید نہیں تھی کیوں کہ ہمارے ملک میں اتنا جلدی انصاف ممکن نہیں ہے مگر میں سمجھتی ہوں کہ اس ملک میں انصاف کرنے والے کچھ لوگ ابھی زندہ ہیں جو انصاف دلوا سکتے ہیں ‘

احمد فرہاد کی اہلیہ کی جانب سے وکیل ایمان زینب مزاری عدالت میں پیش ہوئیں۔ انہوں نے وائس پی کے ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں خوشی ہے کہ احمد فرہاد کیس میں عدالت نے خصوصی دلچسپ لی جس کے باعث احمد فرہاد بازیاب ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ ریاست کی جانب سے پہلے اقرار جرم ہوا تھا اور آج اس بات کو ثابت کیا گیا ہے کہ جبری گمشدگی کو قانونی تحفظ دیا جا رہا ہے۔

ایمان سمجھتی ہے پاکستان میں جبری گمشدگیوں کا جو سلسلہ جاری ہے جس کے تحت پندرہ روز تک احمد فرہاد کو جبری اغوا کیا رہا ہے اس کی کوئی تلافی نہیں ہو سکتی اس لئے ریاست کا احتساب ہونا بہت ضروری ہے۔

احمد فرہاد کے خلاف تھانہ دھیر کوٹ آزاد کشمیر میں درج ایف آئی آر کے متن کے مطابق کوہالہ پل کراس کر کے گجر کوہالہ پولیس چوکی کے اہلکاروں نے جب کیری ڈبے کو چیک پوسٹ پر روکا تو گاڑی میں بیٹھے ایک شخص کی جانب سے پولیس سے بدتمیزی کی گئی جس کی بنا پر اسکے خلاف کار سرکار میں مداخلت کی دفعہ 186 کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

احمد فرہاد کی بہن وحیدہ طاہر نے کہا کہ انہیں اطمینان ہے کہ کم از کم ان کا بھائی بازیاب ہو رہا ہے اور وہ اب بھائی کو ریسیو کرنے کے لیے کشمیر جا رہی ہیں۔وحیدہ کے بقول یہ سب کو معلوم ہے کہ سچ کیا ہے مگر وہ خاموش ہیں کیونکہ ان کے بقول خاموشی بہترین انتقام ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ چونکہ اب احمد فرہاد لاپتہ نہیں ہیں پولیس کی حراست میں ہیں تو احمد فرہاد کے اہل خانہ سے پوچھ کر بتائیں تو درخواست نمٹا دیں گے جب کہ سماعت جمعے تک ملتوی کر دی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here