١٠ مئی ۲۰۲۴

تحریر : اعتزاز ابراہیم


لاہور

حکومتِ پاکستان نے سائبر کرائم کی تحقیقات کے لیے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے نام سے نیا ادارہ قائم کرنے کا آرڈیننس جاری کر دیا ۔ آرڈیننس کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم انویسٹی گیشن ونگ کے اختیارات ختم کر کہ نئی ایجنسی (این سی سی آئی اے) کو دے دئیے گئے ہیں۔

لیکن سوال یہ ہے کہ جب سائبر کرائم کی روک تھام اورتحقیقات کے لیے پہلے سے ہی ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ موجود تھا تو ایک نئے ادارے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اوریہ نیا ادارہ کتنا موثر ہوگا؟

سائبر کرائم کیسز کے ایکسپرٹ وکیل مزمل عتیق نے وائس پی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’’ ہر سال کم سے کم ایک لاکھ درخواستیں ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کو موصول ہوتیں ہیں اور سب سے پہلے ڈپٹی ڈاریکٹر انکی ویری فیکشن کا آڈر کرتا ہے اور ان لاکھ درخواستوں میں سے تین یا چار ہزار اپلیکشن کی ویری فیکشن ہو پاتی ہے اور پھر ان سے چار یا پانچ سو ایف آئی ار درج پورے سال میں درج ہوتیں ہیں۔اتنی کم ایف آئی آرز درج ہونے کی وجہ تفتیشی افسران کی کمی ہیں جو ان درخواستوں کو ویری فائی کر سکے ۔ تو ایک نیا ادررہ بنانے بے حد ضرورت ہے تاکہ افسران کی تعداد بڑھ سکے اور عوام کو ریلیف مل سکے۔‘‘

پاکستان میں ڈیجیٹل رائٹس کے لئے کام کرنے والی تیظیم ’ ڈیجیٹل رائٹس فاونڈیشن ‘ کی رکن سیرت خان کا کہنا ہے کہ نئے ادارے کی تشکیل کے لئے سول سوسائٹی اور باقی سٹیک ہولڈز کو بھی حصہ بنانا چاہیے۔

حکومت کی طرف سے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ ختم کرنے اور نئی ایجنسی کے بنانے کے حوالے سے جب ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کے ذمے داران سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے ان کیمرہ موقف دینے سے انکار کر دیا۔البتہ ایف آئی اے کے ایک سینئر ذمے دار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر وائس پی کے کو بتایا کہ حکومت کی طرف عجلت میں نیا ادارہ بنانے کا آرڈیننس جاری کیا گیا ہے نئی ایجنسی کو کام شروع کرنے میں کم سے کم ایک سال کا وقت درکار ہے ۔ تب تک ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ ہی کام کریں گا۔

آج نیوز کے پروگرام سپاٹ لائٹ ود منیزے جہانگیر میں وزیرِ اعظم کے کوارڈینیٹر رانا احسان افضل کا حکومت کی طرف سے پارلیمںٹ سے بل کی بجائے آرڈیننس کے ذریعہ سے نئی ایجنسی بنانے کے سوال پر کہنا تھا ’’ اصولی طور پر نئی سائبر کرائم ایجنسی کو بطور بل تخت آنا چاہیا تھا ایسا ہی ہوگا اب اس کو پارلیمنٹ میں لے کر جایا جائے گا اور اس کی چار ماہ بعد توثیق نہیں ہوگی۔‘‘

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی وفاقی وزارتِ داخلہ ماتحت کے ہوگی۔ البتہ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ نئی ایجنسی کب سے اپنا کام شروع کرے گی اور نہ ہی آرڈینیس میں اس کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کی گئی ہیں ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here