٦ مئی ٢٠٢۴

تحریر:بلال بصیر


اسلام آباد

سپریم کورٹ آف پاکستان میں فیض آباد دھرنا کیس کی سماعت چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے آج پیر کے روز کی۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے فیض آباد دھرنا کمیشن کی رپورٹ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آؤٹ آف دی وے جا کر اس جنٹلمین کو رپورٹ میں بری کیوں کیا جا رہا ہے۔ بظاہر کمیشن کا مینڈیٹ فیض حمید کو بری کرنا تھا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ یہ کمیشن والے لوگ پتا نہیں پولیس میں کیسے رہے ہیں، یہ ایسے ہی ہے کہ چور سے پوچھ لیا کہ تو نے چوری تو نہیں کی، درخواستیں دائر کرنے والے سب لوگوں سے پوچھ تو لیتے، کیا خوبصورت اتفاق تھا اتنی نظرثانی درخواستیں ایک ساتھ دائر ہوئیں، کسی نے نظرثانی کی منظوری دی ہوگی وکیل کیا ہوگا سارا ریکارڈ کہاں ہے۔

اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان کا کہنا تھا کہ کمیشن کو فریم ورک کی سفارشات کا کہا تھا، مگر وہ نہیں دی گئیں۔روسٹرم پر کھڑے منصور عثمان اعوان نے چیف جسٹس کے استفسار پر کمیشن رپورٹ سے متعلق اعتراف کیا کہ اس میں کوئی سفارشات نہیں ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ انھیں یہ رپورٹ پڑھ کر مایوسی ہوئی اور بظاہر یہ کمیشن وقت ہی ضائع کرتا رہا ہے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا فیض آباد دھرنا فیصلے پر عمل درآمد کر لیا جاتا تو 9 مئی کے واقعات نہ ہوتے، کتنا خوبصورت اتفاق تھا سب نے نظرثانی درخواستیں واپس لے لیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کتنا خوبصورت اتفاق تھا سب نے نظرثانی درخواستیں واپس لے لیں، کیا نظرثانی درخواستیں واپس لینے والوں سے پوچھا؟ پوری رپورٹ میں کہیں لکھا ہے کہ ہم نے ان کو بلوایا ہے؟ ان کو گھر پر سوالات بھجوادیے، ٹی ایل پی اس کیس میں ایک فریق تھی، کیا ٹی ایل پی کی جانب سے کسی کو بلایا گیا، ٹی ایل پی والوں کو ہی کو بلالیتے وہ شاید مدد کر دیتے۔

جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا بلوچستان میں امپورٹر ایکسپورٹر کے شناختی کارڈ آئی ایس آئی کے کہنے پر بلاک کیے گئے، یہاں وہ کہہ رہے ہیں کہ یہ ان کا مینڈیٹ ہی نہیں۔پیر کے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہہ فیض آباد دھرنا کمیشن رپورٹ ٹی او آرز پر پوری نہیں اترتی، کچھ لوگوں کا حلف پر بیان لیا گیا، کچھ لوگوں کو سوالنامے بھیجے گئے، حیران کن طور پر کمیشن نے تحریکِ لبیک کے کسی رکن کا بیان ریکارڈ نہیں کیا اور کمیشن نے فیصلے کے کئی اہم نکات کو نظر انداز کیا۔

اٹارنی جنرل نےرپورٹ پر حکومتی ردِ عمل سے آگاہ کرنے کے لیے 2 ہفتے کا وقت مانگا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس حکم نامے کی ایک کاپی کمیشن کے ارکان کو بھجوائی جائے اگر کمیشن کے ارکان چاہیں تو وہ عدالت کی ابتدائی آبزرویشنز پر اپنا ردِعمل دے سکتے ہیں، تحریری یا عدالت میں پیش ہو کر اپنی پوزیشن واضح کر سکتے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here