۱۶ مئی ۲۰۲۴

تحریر: اعتزاز ابراہیم


لاہور

گزشتہ روز مظفرگڑھ کے علاقے تھرمل بائی پاس پر دو نامعلوم موٹرسائیکل سواروں نے فائرنگ کر کہ مقامی صحافی اشفاق احمد سیال کو قتل کردیا۔ اشفاق احمد سیال کو زخمی حالت میں ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکے۔

ایف آئی ار کاپی

قتل کے واقعہ کی ایف آئی آر بھائی محمد اسحاق کی مدعیت میں دو نامعلوم افراد کے خلاف درج کر لی گئی۔ ایف آئی آر کے متن کے مطابق اسحاق اور اشفاق سیال گھر سے اپنے گتہ گودام کی طرف روانہ تھے کہ راستے میں موٹر سائیکل سوار دو نامعلوم افراد نے اشفاق سیال کو روک کر اس پر فائرنگ کردی اور موقع سے فرار ہوگئے۔

فائرنگ کے واقعہ کے بعد اشفاق سیال کو ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکے۔ صحافی اشفاق احمد سیال کے قتل کیخلاف آج مظفرگڑھ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا۔ احتجاجی مظاہرے میں صحافیوں کے علاوہ سیاسی و سماجی شخصیات اور عام شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

مظفرگڑھ پریس کلب کے صدر اے بی مجاہد کا احتجاج کے موقع پر کہنا تھا کہ’’ صحافی اشفاق احمد سیال کا بہیمانہ قتل صحافت پر حملہ ہے۔ اشفاق سیال کو ٹارگٹ کرکے قتل کیا گیا۔ حکومت اشفاق احمد سیال کے قاتلوں کو فی الفور گرفتار کرے اور صحافیوں کو تحفظ فراہم کرے. ڈی ایچ کیو ہسپتال مظفرگڑھ میں صحافی اشفاق احمد سیال کو تشویشناک حالت میں منتقل کیا گیا تو ہسپتال انتظامیہ کی غفلت اور بروقت طبی امداد نہ ملنے کے باعث زخمی صحافی جان سے چلا گیا ۔‘‘

مظفر گڑھ میں نجی نیوز چینل سے وابستہ صحافی انصر آفتاب کا وائس پی کے سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’’ اشفاق احمد سیال ایک دلیر صحافی تھا اس نے کرپشن کے کئی سکینڈلز بے نقاب کئے تھےلیکن قتل کے محرکات پر بات کرنا قبل از وقت ہوگی۔ ڈی پی او اور ضلع کی پولیس کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور ہم انصاف کے لئے ہر فورم پر جائیں گے۔‘‘

دوسری طرف وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھی صحافی اشفاق احمد کے قتل کے واقعہ کا نوٹس لے لیا۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز نے انسپکٹر جنرل پولیس سے رپورٹ بھی طلب کر لی ہے۔ اپنے پیغام میں وزیر اعلیٰ نے سوگوار خاندان سے دلی ہمدردی و تعزیت کا اظہار کیا۔ وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ صحافی اشفاق احمد کے قتل میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

مظفر گڑھ پولیس کے جاری بیان کے مطابق نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے صحافی کو ٹارگٹ کر کے قتل کیا۔ قتل کی وجوہات تاحال معلوم نہ ہوسکیں۔ معاملے کی تحقیقات اور ملزمان کی تلاش کا عمل جاری ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here