١١ مئی ۲۰۲۴

تحریر : بلال بصیر


اسلام آباد

صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے وکلا اور پولیس کے درمیان بدھ کے روز ہونے والے تصادم کے بعد وکلا تنظیموں نے ہڑتال کی کال دے رکھی ہے۔ یہ تصادم اُس وقت ہوا جب وکلا نے ریلی کی صورت میں لاہور ہائی کورٹ کی عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی اور پولیس کی بھاری نفری نے انہیں روک کر تشدد کا نشانہ بنایا۔لاہور میں وکلا پر پولیس تشدد اور گرفتاریوں کے خلاف وکلا تنظیموں کی طرف سے ہڑتال کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔صدر لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن اسد منظور بٹ نے وائس پی کے ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آٹھ مئی کو وکلا کے ساتھ ظلم اور زیادتی ہوئی ہے جب وکلا پر امن تھے۔

’’حکومت پنجاب کے محکمہ پولیس نے جس برے طریقے سے وکلا کے ساتھ زیادتی کی ہے مار پیٹ کی ہے تشدد کیا ہے، واٹر کینن استعمال کی ہیں اور ٹیئر گیس استعمال کر کے گرفتاریاں کی ہیں، وکلا کو زخمی کیا ہے یہ بڑی زیادتی ہے اور ہم بالکل زمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کریں گےْ‘‘

وکلا تنظیموں کے مطابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نےمطالبات پر توجہ نہیں دی جس کی وجہ سے معاملات اس نہج پر پہنچ گئے۔ممبر پاکستان بار کونسل امجد علی شاہ نے وائس پی کے ڈاٹ نیٹ کو دیے گئے اپنے خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ چیف جسٹس کا اس قدر سخت رویہ ان کی ناکامی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’’میں سمجھتا ہوں چیف جسٹس نے جس طرح اس معاملے کو ہوا دی ہے یہ بالکل چیف جسٹس کی انتظامی سائیڈ پر ناکامی ہے اور پورے پاکستان کے وکلا لاہور کے وکلا کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہم ان کی ہر کال پر لبیک کہیں گے‘‘

ذرائع کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے وکلا پر لاٹھی چارج ایک عدالتی جج کے کہنے پر کیا کیونکہ انہیں احکامات تھے کہ اگر وکلا کو روکا نہ گیا تو ان کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی کی جائے گی۔امجد علی شاہ کے بقول پرامن ’’احتجاج ہے ہر شہری کا آئینی اور قانونی حق ہے۔ان کے بقول پرامن احتجاج کو روکنا ان پر تشدد کرنا چائے وہ چیف جسٹس کے کہنے پر ہو چائے وہ وزیر اعلی کے کہنے پر ہو چائے وہ وزیراعظم کے کہنے پر ہو چائے وہ کسی ریاستی اہلکار کے کہنے پر ہو وکلا اس کی مذمت کرتے ہیں‘‘۔

خیال رہے کہ وکلا کی طرف سے بنائی گئی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کریں گےاسد منظور بٹ نے کہا کہ اس میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن، اس میں پاکستان بار کونسل، لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن، اور لاہور ڈسٹرکٹ بار ان پر مشتمل وکلا کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی ہے جن میں ان تمام کے نمائندے موجود ہیں۔ان کے بقول ’’سب کا مشترکہ اعلامیہ یہ ہے کہ عدلیہ نے جو ہمارے ساتھ زیادتی کی ہے تو ہم بھی جو اس کے زمہ داران ہیں ان کے خلاف قانون کاروائی کریں تو لا محالہ جو ججز ہیں ان کے خلاف ہم کوئی پرچہ نہیں کٹوا سکتے تو ریفرنس ہی ہو سکتا ہے اور بالکل جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا اس پر اتفاق ہے کہ عدالت عالیہ اگر معاملات کو درست نہیں کرتی تو ہم ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں جائیں گے‘‘

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور پاکستان بار کونسل کے عہدیداران نے کہا ہے کہ وہ لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے ہر فیصلے کی حمایت کرتے ہیں اور وکلا کے ساتھ جو ہوا اسے کبھی معاف نہیں کریں گے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here