٢٨ مئی ٢٠٢۴

تحریر: محمد بلال بصیر عباسی


اسلام آباد

قائم مقام صدر پاکستان یوسف رضا گیلانی نے نیب ایکٹ میں ترمیم کر کے پیر کے روز نیا آرڈیننس جاری کر دیا ہے۔ نئے نیب آرڈیننس کے تحت نیب کے زیرِحراست ملزم کا ریمانڈ 14 دن سے بڑھا کر 40 دن کر دیا گیا ہے جب کہ آرڈیننس کے مطابق نیب افسر کی جانب سے بدنیتی پر مشتمل نیب ریفرنس بنانے پر سزا پانچ برس سے کم کر کے دو برس کر دی گئی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما و وکیل شعیب شاہین نے وائس پی کے ڈاٹ نیٹ کو اس آرڈیننس پر رد عمل دیتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ قانون سازی کسی صورت بھی برداشت نہیں ہے۔

شعیب شاہین نے کہا کہ ماضی میں انہوں نے نیب ترمیم کر کے سب سے پہلے اپنے مقدمات ختم کرائے اور اب یہ نیب کو صرف اپنی مخالف جماعت اور اس کے بانی قائد کے خلاف استعمال کرنے جا رہے ہیں

نیب کییسز کرتے وکیل رضوان مجید ایڈوکیٹ نے وائس پی کے کو بتایا ہے کہ نیب قوانین میں نئی قانون سازی بد نیتی پر مبنی ہے۔

انہوں نے استفسار کیا کہ جب قتل کے مقدمے میں ملزم کا ریمانڈ صرف چودہ روز کا ہے ایسے میں مالی بدعنوانی کے الزام میں چالیس دن کا ریمانڈ لینا سمجھ سے بالاتر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نیب افسر کی جانب سے بد نیتی پر مشتمل ریفرنس بنانے پر سزا کم کرنے سے اس کے غلط استعمال میں مزید اضافہ ہو گا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری اپنے پیغام میں سینئیر لیگی رہنما خواجہ سعد رفیق نے تحریر کیا کہ نیب قانون ایک آمر کا بنایا ہوا کالا قانون ہے جسے انہوں نے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ماہرین قانون بھی سمجھتے ہیں کہ ایسے فیصلے حکومت کی جانب سے محض حزب اختلاف کو پریشان کرنے کے لیے لائے جاتے ہیں جنہیں فورا واپس ہونا چائیے۔

ماہر قانون دان عابد ساقی نے اس موقع پر کہا ہے کہ ایسے قوانین محض حزب اختلاف کو تنگ کرنے کے لیے بنائے جاتے ہیں اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ سپریم کورٹ جلد ہی اسے واپس کر دے گی۔

صدارتی آرڈیننس پر اپوزیشن کے ساتھ حزب اقتدر کی جانب سے بھی تنقید کی جارہی ہے اور اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here