٣٠ مئی ۲۰۲۴

سٹاف رپورٹ


لاہور

شیخوپورہ کے نواحی علاقے کوٹ نذیر میں پولیس نے بروقت کاروائی کرتے والدین کی طرف سے 5 سالہ بچی کی 13 سالہ بچے کے ساتھ زبردستی شادی کروانے کی کوشش کو ناکام بنا دیا ۔ترجمان شیخوپورہ پولیس رانا یونس کے مطابق ڈی پی او بلال ظفر کو کم عمر بچوں کی زبردستی شادی کی کوشش کی  اطلاع ملنے پر فوری طور پر کاروائی کرنے کا حکم دیا گیا جس پر تھانہ صدر مریدکے پولیس نے فوری کارروائی کر کہ والدین کی طرف سے زبردستی کے طور پر 13 سالہ ابرار کی 5 سالہ بسمہ کے ساتھ شادی کی کوشش کو ناکام بنایا۔ اور موقع سے تمام لوگوں کو گرفتار کر لیا گیا ۔اور چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ۔واقعہ 26 مئی کی رات کو پیش آیا۔

فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) میں بتایا گیا کہ بچوں کی زبردستی شادی کی جا رہی تھی اور پولیس کو قریب آتے ہی ملزمان فرار ہو گئے۔ایف آئی آر کے مطابق بچے کے دادا، جس کی شناخت یوسف کے نام سے ہوئی، نے اعتراف کیا کہ وہ اور اس کا بیٹا مزمل عباس اس کے پوتے کی شادی پر مجبور کر رہے تھے۔ایف آئی آر میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ لڑکی کے والد عمران، اس کے دادا امجد، بشیر اور اکرم سلیمان عرف چنا کے ساتھ شادی میں موجود تھے۔ ارشد نامی ملزم انتظامات کا ذمہ دار تھا، اور نکاح عمر حیات کے نام سے ایک مشتبہ شخص نے کیا۔ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ملزمان نے کم عمر بچوں سے زبردستی شادی کر کے ‘چائلڈ میرج ریسٹرینٹ (ترمیم) ایکٹ 2015’ کی خلاف ورزی کی۔

2015 میں، پنجاب نے شادی کی قانونی عمر کو 16 سال پر برقرار رکھا لیکن اس قانون کی خلاف ورزی پر جرمانے میں اضافہ کیا جب صوبے نے چائلڈ میرج ریسٹرینٹ آرڈیننس 1971 میں ترمیم کی اور پنجاب میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2015 منظور کیا۔دریں اثنا، پنجاب حکومت نے شادی کی قانونی عمر 18 سال کرنے کے لیے پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2024 کا مسودہ تیار کر لیا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here