۲۵ مئی ۲۰۲۴

تحریر : اعتزاز ابراہیم


لاہور

حال ہی میں پنجاب اسمبلی سے منظور کیا جانے والا ہتک عزت بل تنقید کی زد میں ہے۔ سول سوسائٹی اور صحافتی تنظمیوں کے ساتھ حکومتی اتحادی نے بھی اس بل کی مخالفت کر دی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی ایم پی اے نیلم جبار کا وائس پی کے سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ’’ پیپلز پارٹی اس بل کے خلاف ہے اور ہمیں اعتماد میں لائے بغیر بل بنایا گیا اور جس دن اسمبلی میں پیش کیا گیا پیپلز پارٹی نے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔پیپلزپارٹی ہمیشہ  آزادی اظہار پر یقین رکھتی ہے  اور ہم اس بل کی مخالفت کرتے ہیں۔‘‘

پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ رکن پنجاب اسمبلی آفتاب احمد خان کا بل پر گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا’’کہ یہ کالا قانون ہے اگر گورنر اس کو منظور کرتا ہے تو اس کے خلاف کورٹ میں جائیں گے۔‘‘

انکا مزید کہنا تھا کہ’’ اس بل میں کئی شقیں ایسی شامل ہیں جو آئین پاکستان سے متصادم ہیں ۔اس بل میں فیر ٹرائل کا موقع نہیں ملتا۔‘‘

جہاں سیاسی جماعتیں ہتک عزت بل کو کالا قانون قرار دے کر اس کی مخالفت کر رہی ہیں وہیں سول سوسائٹی اور صحافتی تنظیمیں اسکو آزادی صحافت پر حملہ قرار دے کر اس کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here