٢١ مئی ۲۰۲۴

تحریر: انور انجم


کراچی

خیبر پختونخوا کا ضلع سوات گھنے جنگلات،حسین وادیوں اور خوبصورت موسم کی وجہ سے مشہور ہے۔ اس وادی کی خوبصورتی میں جنگلات کا اہم کردار ہے، لیکن کچھ عرصہ سے سوات کے مختلف علاقوں میں جنگلات کی بے دریغ کٹائی کا سلسلہ جاری ہے۔جس سے سوات کا حسن تباہ ہورہا ہے۔ ایسے میں سوات کی سول سائٹی میدان میں آگئی ہے۔ سوات پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ اور ریلی کا اہتمام کیا گیا، جس میں سول سوساٹی کے نواجوان شریک تھے۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اُٹھا رکھے تھے، جس پر ”سوات میں درختوں کا قتلِ عام بند کرو“ جیسے نعرے درج تھے۔
سول سوسائٹی کے ممبر فضل خالق کہتے ہیں کہ پوری دنیامیں لوگ درخت لگارہے ہیں، لیکن بدقسمتی سے سوات اور ملاکنڈڈویژن میں ٹمبر مافیا درختوں کا صفایا کر رہاہے، جو یہاں کے ماحول کیلئے انتہائی خطرناک عمل ہے۔
امجد علی سحاب کا کہنا ہے کہ سوات میں درختوں کی کٹائی کسی بھی صورت قبول نہیں۔ ہم ان کے خلاف بھر پور مزاحمت کریں گے۔
مظاہرے میں شامل فرسٹ ائیر کے طالب علم طیب اللہ نے وائس پی کے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ درختوں کی کٹائی سے ہمارے ماحول پر برے اثرات پڑرہے ہیں۔
نوجوان عمیر خان کہتے ہیں کہ مظاہرے کا مقصد سوات میں درختوں کی کٹائی کو روکنا ہے،ہمیں درخت لگانے چاہئیں۔
ڈسٹرکٹ فارسٹ آفیسر وسیم خان نے وائس پی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوات میں درختوں کی کٹائی قانونی ہے۔ اس کیلئے باقاعدہ حکومت نے اجازت دی ہے۔
درختوں کی کٹائی سے سوات سمیت پورے ملاکنڈ وژن میں کلائمٹ چینج کے اثرات شروع ہوگئے ہیں۔ اس سال بے وقت بارشوں اور سیلابوں سے زیادہ نقصانات ہوئے ہیں،علاقے کو بچانے کیلئے مزید درخت لگانے کی ضرورت ہے۔۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here