٢١ مئی ٢٠٢۴

تحریر: اعتزاز ابراہیم


لاہور

اپوزیشن کے شور شرابے اور صحافتی تنظیموں کے تخفظات کے باوجود پنجاب اسمبلی سے ہتک عزت بل ۲۰۲۴ منظور کر لیا گیا۔اپوزیشن نے بل کو کالا قانون قرار دیتے ہوئے مستردکردیا اور بل کی کاپیاں پھاڑ دیں ۔ صحافیوں نے بھی بطور احتجاج اجلاس کی کارروائی کا بائیکاٹ کرتے ہوئے پریس گیلری سے واک آؤٹ کیا۔

صدر پریس کلب لاہور ارشد انصاری کا وائس پی کے سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’’یہ کالا قانون ہے اور آئین پاکستان کے آرٹیکل 19 کی خلاف ورزی ہے اس کے خلاف احتجاج کریں گے۔‘‘

آئینی قوانین کے ماہر انس مشعود کا بل کے خد و خال بیان کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اس قانون کے تحت ہرجانے کی رقم کافی رکھی گئی ہے ۔سیکرٹری پریس گیلری پنجاب اسمبلی حسان احمد کا کہنا تھا کہ بل میں فیک نیوز ، ڈس انفارمیشن سمیت دیگر کئی شقیں متنازعہ ہیں۔

ہتک عزت بل کا اطلاق الیکٹرونک پرنٹ اور سوشل میڈیا پر لاگو ہوگا تضحیک آمیز ویڈیوز یا کردار کشی قابل گرفت ہوگی، بل کے تحت غلط خبر یا کردار کشی پر اس قانون کے تحت درخواست دائر کی جا سکے گی، کیس سننے کےلئے ٹربیونلز قائم کئے جائیں گے جو ایک سو اسی دنوں میں فیصلے کے پابند ہوں گے، آئینی عہدوں پر تعینات شخصیات کے کیسز ہائی کورٹ کے بنچ کے پاس سنے جائیں گےاور سزا کے طور پر تیس لاکھ روپے ہرجانہ تک کی پینلٹی اس قانون کے تحت دی جا سکے گی۔ اعتزاز ابراہیم وائس پی کے لاہور

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here