٢١ مئی ۲۰۲۴
تحریر: ندیم خان

کوزک شاہراہ گزشتہ 15 روز سے مال بردار گاڑیوں کے لئے بند ہے۔ پاک افغان سرحد پر پاسپورٹ کی شررط عائد کئے جانے کے خلاف چمن میں گزشتہ آٹھ ماہ سے احتجاج جاری ہے۔ دھرنے پر ایف سی کے کریک ڈاؤن کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے دو مظاہرین کے بعد احتجاج میں شدت دیکھی گئی۔

چمن دھرنے کی حمایت میں اپوزیشن الائینس نے آج صوبے کے مختلف اضلاع میں پہیہ جام ہڑتال کی کال دے رکھی ہے۔

احتجاجی منتظم ولی محمد عرف منڈول مطابق پاک افغان قومی شاہراہ کوذک کے مقام پر اس وقت تک بند رکھی جائے گی جب تک کندھار اور چمن کے شہریوں کو شناختی کارڈ اور افغان تذکرہ پر آمد ورفت کی۔اجازت نہیں دی جاتی۔

چمن میں سرحد کے دونوں اطراف قبائل کی زمینیں اور خااندان تقسیم ہیں، اندازے کے مطابق روزان 30 ہزار سے زائد افراد چمن سرحدی گزرگاہ سے شناختی کارڈ اور افغان تذکرہ کے ذریعہ آمد ورفت کیا کرتے تھے جو کہ اب ممکن نہیں رہی۔

ترجمان حکومت بلوچستان شاہد رند بتاتے ہیں کہ۔حکومت کی کوشش ہے کہ معاملے کو مذاکرات کے ذریعہ حل کیا جاسکے۔

اگر حکومت اور دھرنا منتظمین کے مابین مذاکرات کامیاب نہیں ہوتے تو جیلانی خان کی طرح کئی ڈرائیورز کھلے آسمان تلے مزید کئیں راتیں کھکت آسمان تلے گزارنے مجبور ہوں گے اور گاڑیوں میں لدے۔ہوئے سامان کے خراب ہونے کا خدشہ ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here