۳ جون ۲۰۲۴

تحریر: محمد بلال بصیر عباسی


اسلام آباد 

مظفر آباد کی انسداد دہشگردی عدالت نے شاعر احمد فرہاد کی درخواست ضمانت پر پیر کے روز سماعت کی جس میں عدالت نے بحث مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا جو کل منگل کے روز سنایا جائے گا۔اس موقع پر درخواست گزار احمد فرہاد کی اہلیہ سیدہ عروج زینب کی طرف سے وکیل کرم داد خان عدالت میں پیش ہوئے جب کہ استغاثہ کی جانب سے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل درخواست ضمانت پر منظور نہ کرنے کے متعلق تفصیلی دلائل دیے۔

اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت میں موقف اپنایا کہ شاعر احمد فرہاد نے سوشل میڈیا کے ذریعے اشتعال پھیلانے کی کوشش کی۔اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کے بقول احمد فرہاد نے پاکستان سے لیں گے آزادی کا ٹرینڈ چلایا اور لوگوں کو اکسایا کہ وہ پرتشدد واقعات کریں۔وکیل درخواست گزار کرم داد خان نے استغاثہ کے دلائل پر سوال اٹھایا کہ ایف آئی آر میں احمد فرہاد کا نام نہیں ہے جب کہ اس دوران آزاد کشمیر میں انٹرنیٹ سروس بھی بند تھی ایسے میں ان کی شاعری کیسے لوگوں کو اشتعال دلا سکتی تھی۔

کرم داد خان ایڈووکیٹ نے موقف اپنایا کہ حقیقت یہ ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں احمد فرہاد کی گمشدگی کے بارے میں رٹ زیر سماعت ہے اور عدالت نے حکم دے رکھا ہے کہ ان کو عدالت میں پیش کیا جائے اس سے بچنے کے لیے یہاں ان کی گرفتاری ظاہر کی گئی ہے۔انہوں نے کہا ‘احمد فرہاد پر نہ ہی ایف آئی آر آتی ہے نہ ہی ان کا ایف آئی آر میں ذکر ہے اور استغاثہ کے پاس کوئی بھی ثبوت نہیں ہے لہذا احمد فرہاد کو ضمانت پر رہا کیا جائے’عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے جو کل منگل کے روز سنایا جائے گا۔

دوسری طرف اسلام آباد ہائیکورٹ نے احمد فرہاد بازیابی کیس کی جمعہ کی روز ہونے والی سماعت کا تحریری حکم نامہ آج جاری کیا ہے۔حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار وکیل ایمان زینب مزاری کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ احمد فرہاد اب تک گھر نہیں پہنچے ہیں اور انھیں تھانہ صدر مظفر آباد میں درج مقدمے میں جسمانی ریمانڈ پر رکھا گیا ہے۔وکیل کے مطابق احمد فرہاد کے اہل خانہ کی ان سے ملاقات کروا دی گئی ہے، طبی وجوہ کی بنا پر احمد فرہاد کی صحت ٹھیک نہیں ہے۔

حکم نامے میں کہا گیا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور پراسیکیوٹر جنرل کے مطابق احمد فرہاد 2 جون تک جسمانی ریمانڈ پر ہیں، اس لیے بازیابی کی یہ درخواست غیر مؤثر ہو چکی ہے۔ تاہم درخواست میں احمد فرہاد کو اغوا کرنے والوں کی تشخیص اور ان کے خلاف کارروائی کی استدعا بھی کی گئی تھی، جب کہ لا افسر نے موقف اپنایا کہ احمد فرہاد کی بازیابی کے بعد یہ استدعا اب مؤثر نہیں رہی۔ تاہم حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ یہ عدالت احمد فرہاد کے اسلام آباد ہائیکورٹ پیش ہونے تک لا افسر کے اس مؤقف سے اتفاق نہیں کرتی۔

عدالت نے حکم نامے میں مزید کہا کہ درخواست گزار وکیل کے مطابق احمد فرہاد کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست دائر کر دی گئی ہے اور کچھ روز میں احمد فرہاد کے ضمانت پر رہا ہونے کے امکانات ہیں۔ عدالت نے لکھا کہ ان تمام محرکات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیس کی سماعت 7 جون 2024 تک ملتوی کی جاتی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here