۸ جون ۲۰۲۴

تحریر : ندیم خان


چمن

ٹرامہ سینٹر کوئٹہ میں ہماری ملاقات نوجوان احمد اللہ سے ہوئی جنہوں نے چیک کپڑے سے سلا ہوا ہسپتال کا مخصوص لباس پہن رکھا ہے۔ وہ سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے زخمی ہوئے ہیں۔”میں نے جُو نہی پتھر اٹھایا تو مجھے ہاتھ اور پھر سینے میں گولی لگی جسکے بعد مجھے کچھ یاد نہیں۔”

ساتھ ہی وہیل چئیر پر بیٹھے پھٹے پرانے کپڑے پہنے دس سالہ قدرت اللہ تھے جن کی ایک آنکھ پر گہری چوٹ لگی ہوئی تھی اور دائیں ٹانگ میں لوہے کا راڈ لگا تھا۔ “میں کوژک میں تھا جہاں ایف سی اہلکاروں نے مجھے اونچائی سے دھکا دیا اور میں گر گیا جس سے میری ٹانگ ٹوٹ گئی۔”

ٹراما سینٹر کی انتظامیہ نے ہمیں انٹرویو کرنے سے روکا اور موقف اختیار کیا کہ سیکریٹری صحت سے اجازت لے کر آئیں۔ جس کے سبب زخمیوں سے مزید معلومات حاصل نہ کی جا سکی ۔اس دوران زخمیوں کے اہل خانہ نے ٹراما سینٹر میں ٹھیک سے علاج نہ کئے جانے کی بھی شکایت کی۔

چمن میں پرتشد واقعات کا آغاز کب ہوا؟

چمن میں پرتشد واقعات کا آغاز اس وقت ہوا کہ جب دھرنا رہنماوں کو گرفتار کیا گیا۔ اور پاک افغان قومی شاہراہ کوژک کے مقام پر دھرنے کو منتشر کرنے کے لئے کریک ڈاون کیا گیا۔دھرنا ترجمان اولس یار نے وائس پی کے ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ ڈپٹی کمشنر اطہر عباس راجہ نے چار جولائی کو سات دھرنا قائدین کو مذاکرات کے بہانے بلا کر گرفتار کیا۔ڈپٹی کمشنر چمن اطہر عباس راجہ نے موقف اختیار کیا کہ کسی تیسرے فریق جو مصالحت کا کا کردار ادا کررہا تھا کے کہنے پر دھرنا کمیٹی کے رہنماؤں کو بلایا گیا۔ “ہم نے گزارش کی کہ سرکاری دفاتر کی تالہ بندی ختم کریں، اسی دوران گفتگو میں گرما گرمی ہوئی اور مجھ پر حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں دھرنا قائدین کو گرفتار کرنا پڑا۔”

گرفتار دھرنا قائدین پر تشدد کئے جانے کے الزامات

نا معلوم مقام سے ریکارڈ ہونے والی وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ دھرنا قائدین لڑ کھڑا کر چل رہے ہیں۔ جس سے مبینہ طور پر اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ ان پر تشدد کیا گیا ہے۔ تاحال دھرنا قائدین کی گرفتاری ظاہر نہیں کی جاسکی۔ڈپٹی کمشنر چمن سے سوال کیا گیا کہ گرفتار قائدین کہاں ہی یا پھر انہیں عدالت میں کیوں نہیں پیش کیا گیا؟ تو اس سوال پر انہوں نے ردعمل دینے سے گریز کیا۔چمن میں انٹرنیٹ سروس معطل ہے سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری نے گزشتہ تین روز سے شہرکو محاصرہ میں لے رکھا تھا۔ تاہم تازہ معلومات کے مطابق دستے واپس جاچکے ہیں۔

وائرل ویڈیوز میں سیکورٹی فورس کو مظاہرین پر فائرنگ کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔ جواب میں مظاہرین سیکورٹی فورسز پر پتھراو بھی کررہے ہیں۔ڈپٹی کمشنر کے مطابق پر تشدد واقعات میں پینتالیس کے قریب افراد زخمی ہوئےجن میں پندہ سیکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی شامل ہیں ۔

اطہر عباس راجہ نے بتایا کہ حکومت 8 ماہ سے تحمل کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ جب دھرنا منتظمین نے پاسپورٹ بینک اور دیگر سرکاری دفاتر بند کئے تھے پورا ضلع مفلوج ہوکر رہ گیا۔”جب پولیو ٹیم پر حملہ کیا گیا اور بندوقیں چھینی گئیں تو پھر دھرنے پر کریک ڈاون کرنا پڑا۔”

لیکن دھرنا ترجمان اولس یار نے دعوٰی کیا کہ حکومت نےچمن دھرنے کو سبوتاژ کرنے کے لئے پولیو ٹیم پر حملے کا ڈرامہ رچایا۔”پولیو کمپین شروع ہونے سے قبل ہی خدشہ تھا کہ حکومت کریک ڈاون کر سکتی ہے۔ جسکی وجہ سے دھرنے میں شرکاء کی تعداد بڑھ گئی۔”

انہوں نے بتایا کہ دھرنا کمیٹی نے شروع سے ہی رضاکارانہ طور پر انسداد پولیو کے قطرے دینے سے منع نہیں کیا ہاں البتہ اگر انتظامیہ زبردستی انسداد کے قطرے دیگی دے تو اُسکی مخالفت کی جائے گی۔چمن میں چوتھے روز بھی حالات مکمل طور معمول پر نہ آسکے۔ شہر میں کاروباری مراکز بند ہیں اور خوف کی فضا قائم ہے۔ دھرنا قائدین کی رہائی کی شرط پر دھرنا منتظمین نے ڈی سی آفس سے دھرنا پرانے مقام پر منتقل کردیا ہے۔

گزشتہ ماہ ایف سی کی فائرنگ کے نتیجے میں دو مظاہرین ہلاک ہوئے تھے۔ جسکے بعد دھرنا منتظمین نے احتجاج میں شدت لاتے ہوئے پاک افغان قومی شاہراہ کوژک کے مقام پر بند کرنے سمیت سرکاری دفاتر اور بینکوں کی تالہ بندی کی۔پاک۔افغان شاہراہ کھول دی گئی ہے لیکن شہر میں سرکاری دفاتر تاحال بند ہیں۔چمن میں آٹھ ماہ سے احتجاج کیوں جاری ہے۔نگراں حکومت نے ایپیکس کمیٹی کے فیصلے کی روشنی میں یکم نومبر 2023 سے چمن، تور خم۔سمیت افغانستان کے ساتھ تمام سرحدی گزرگاہوں پر سفر کرنے والوں کے لئے پاسپورٹ کی شرط عائد کی تھی۔اس سے قبل پاکستان کی طرف سے چمن و قلع عبداللہ کے علاقے جبکہ افغانستان سے کندھار کے لوگ اپنے قومی شناختی کارڈ کی مدد سے آمد و رفت کیا کرتے تھے۔ اور ایسا ہی طریقہ کار دیگر گزرگاہوں پر رائج تھا۔چمن سرحد کے دونوں اطراف ایک ہی قبیلے کے لوگ آباد ہیں اکثر لوگوں کا ایک بھائی سرحد کے اُس پار جبکہ دوسرا سرحد کے اس پار رہتا ہے۔ یہاں قبائل کی زمینیں بھی سرحد پر منقسم ہیں۔

چمن کے شہریوں کے روزگار کا بڑا دارومدار سرحد پر تجارت اور افغانستان کی سرحد سے متصل منڈی میں قائم دکانوں سے ہوا کرتا تھا۔ایک اندازے کے مطابق روزانہ تیس سے پینتیس ہزار لوگ صبح سرحد پار کر کے کاروبار کرنے جاتے اور شام کو واپس لوٹتے۔دھرنا ترجمان اولس یار کا کہنا ہے کہ تیس سے پینتیس ہزار لوگ پاسپورٹ امیگریشن سسٹم سے گزر ہی نہیں سکتے۔وہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ڈیورنڈ لائن کے قریب آباد قبائل کے لئےآمدورفت پرانے طرز پر کی جائے۔ان کے مطابق چمن و قلعہ عبداللہ کی طرف سے شناختی کارڈ اور افغانستان کی طرف سے کندھار کے شہریوں کو افغان تزکرہ (افغان شناختی کارڈ) پر آمد و رفت کی اجازت دی جائے۔”

” باقی لوگ بیشک پاسپورٹ پر سفر کریں۔ لیکن وزیرستان سے لیکر چمن تک ڈیورنڈ لائن کے قریب آباد قبائل کے لئے پاسپورٹ کی شرط ختم کی جائے۔”

اس تمام تر واقع پر وزیر داخلہ بلوچستان ضیاء لانگو اور بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند سے بات کرنے کی کوشش کی گئی لیکن خبر کی اشاعت تک ان کا موقف سامنے نہیں آسکا۔اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں چمن دھرنے کے مطالبات تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اسمبلی کے فلور پر حکومت پر زور دیا کہ وہ چمن اور وزیرستان میں جاری دھرنے کے شرکائ سے مذاکرات کرے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here