۲۶ جون ۲۰۲۴

سٹاف رہورٹ


لاہور

اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے اشتعال انگیزی پھیلانے اور تشدد پر اکسانے کے مقدمے میں اشتہاری ہونے پرملزمان عادل راجہ، شاہین صہبائی، معید پیرزادہ، صابر شاکر، حیدر مہدی کے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ بلاک کرنے کا حکم دے دیا اور پندرہ دنوں میں احکامات پر عملدرآمد کرکے رپورٹ عدالت میں جمع کراونے کا بھی حکم جاری کر دیا۔

انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر سپرا نے 25 جون کو اشتہاری ملزمان کیخلاف ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو ملزمان کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد کی معلومات عدالت کو فراہم کرنے کا حکم دیا ،اس کے علاوہ عدالت نے چیئرمین نادرا کو ملزمان کے شناختی کارڈ اور نائیکوپ جبکہ ایف آئی اے کے ڈی جی کو ملزمان کے پاسپورٹ بلاک کرنے کا بھی حکم دیا۔

عدالت نے احکامات پر عملدرآمد کی رپورٹ 15 دن میں طلب کرلی جبکہ ملزمان کیخلاف استغاثہ کے گواہان کے بیانات قلمبند بھی کرلیے گئے۔انسداد دہشتگردی کی عدالت نے دس جولائی تک تمام متعلقہ محکموں کو عملدرآمد رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کی۔ جج طاہر عباس سپرا نے تحریری احکامات بھی جاری کردیے۔

Court Order

واضح رہے کہ عادل راجہ، شاہین صہبائی، معید پیرزادہ، صابر شاکر، حیدر مہدی اور وجاہت ایس خان کے خلاف 9مئی 2023ء کو تھانہ آبپارہ اور تھانہ رمنا میں اشتعال انگیزی اور لوگوں کو تشدد پر اکسانے کے الزام کے تحت مقدمات درج ہیں۔ ایف آئی آرز کے متن میں کہا گیا ہے کہ ملزمان نے سوشل میڈیا پر اپنی ویڈیوز اور ٹوئیٹس کے ذریعے سے عوام میں اشتعال پھیلایا اور لوگوں کو فوجی املاک کو نقصان پہنچانے کی ترغیب دی ۔

FIR Copy

ایف آئی آرز میں بغاوت پر اکسانے اور دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ ملزمان کے انسداد دہشت گردی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا اور ملزمان کو عدالت میں حاضر ہونے کے لئے ثمن جاری کیے جاتے رہے تاہم عدالت میں عدم پیشی کی بنیاد پر عدالت کی طرف سے ملزمان کے خلاف یہ حکم جاری کیا گیا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here