۱۱ جون ۲۰۲۴

تحریر :اعتزاز ابراہیم


لاہور

لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب ہتک عزت قانون کی بغیر ثبوت کے ہتک عزت کا دعوہ دائر کرنے، ٹریبیونل کی تشکیل میں حکومت کے کردار اور اسمبلی کی کارروائی سے ہتک عزت کے استثنی کی شقوں پر عمل درآمد درخواست کے حتمی فیصلے تک روک دیا۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس امجد رفیق نے صحافی جعفر احمد یار کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست میں قانون کے مختلف شقوں کو چیلینج کیا گیا تھا۔ درخواست گزار کے مطابق، مزکورہ قانون آئین پاکستان کے خلاف ہے۔

درخواست گزار کے وکیل نے دلائل دیے کہ یہ قانون عدلیہ کی آزادی اور آزادی اظہار رائے کے خلاف ہے۔ اس قانون کے مطابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ 3 ججز کے نام بطور ٹریبیونل تجویز کر سکتے ہیں۔ اگر حکومت چاہے تو ان ناموں کو رد کر کے نئے نام منگوا سکتی ہے۔ چیف جسٹس کی تجویز کو رد نہیں کیا جا سکتا، اس پر عملدرآمد لازمی ہے۔ عدلیہ کے معاملات میں حکومت مداخلت نہیں کر سکتی۔جسٹس امجد رفیق نے وکیل سے استفسار کیا کہ ٹریبیونل حکومت کے حکم پر چلتے ہیں، عدلیہ کے حکم پر نہیں۔ یہ قانون کیسے آزادی اظہار اور بنیادی حقوق کے خلاف ہے ؟ یہ کیسے بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہے۔

درخواست گزار کے وکیل نے دلائل دیے کہ اس قانون کے مطابق بغیر کسی ثبوت آپ کیسز کی کارروائی شروع کر سکتے ہیں۔ اس میں اسمبلی کی کارروائی کو بھی استثنی دیا گیا ہے جو کہ آئین کی خلاف ورزی ہے۔ جسٹس امجد رفیق نے ریمارکس دیے کہ اگر آپ چیف منسٹر کو کسی بیان دینے پر عدالت میں لے آئیں تو یہ غلط بات ہے۔ جس پر درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ چیف منسٹر جھوٹ نہ بولیں۔

وزیر اطلاعات پنجاب بھی صبح سے شام تک جھوٹ بولتی ہیں۔ اس ایکٹ کے مطابق، کیس کے فیصلے سے پہلے ہی ملزم 30 لاکھ جرمانہ ادا کرے گا۔ جسٹس امجد رفیق نے ریمارکس دیے کہ قانون کے مطابق ایسا ہو سکتا ہے، تیز ترین انصاف کے لیے یہ ضروری ہے۔ دوران سماعت سرکاری وکیل نے درخواست کی مخالف کی اور کہا کہ اگر حکومت چیف جسٹس کے دیے گئے ناموں میں سے ٹریبیونل کے جج مقرر نہیں کرتی تو حکومت وجوہات دینے کی پابند ہے ۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر چیف جسٹس کچھ ناموں کی تجویز بھیجتے ہیں تو حکومت یہ نہیں کہہ سکتی کہ ہمارے فلاں وزیر کو یہ نام پسند نہیں آیا ، یہ کوئی دکانداری یا سودے بازی ہے ؟لاہور ہائیکورٹ نے ہتک عزت قانون کے سیکشنز تین پانچ اور آٹھ پر عملدرآمد عدالتی فیصلے سے مشروط کر دیا اور آئندہ سماعت پر حکومت پنجاب سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کر دیے اور ایڈوکیٹ جنرل کو معاونت کے لیے طلب کر لیا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here