۱۰ جون ۲۰۲۴

تحریر :اعتزاز ابراہیم


لاہور

ہتک عزت کا بل قانون کی شکل اختیار کر گیا قائم مقام گورنر پنجاب ملک احمد خان کے دستخط کے بعد گزٹ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ۔ متنازعہ قانون بننے پر صحافیوں کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے قانون کو عدالت میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کر لیا ۔ صدر پریس کلب لاہور ارشد انصاری کا وائس پی کے سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’’ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے اجلاس میں اس قانون کو عدالت میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور کل ہم اس کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں پٹیشن دائر کریں گے اور اس کے  ساتھ ساتھ صوبائی اور وفاقی بجٹ اجلاس کی کوریج کا بھی بائیکاٹ کریں گے۔‘‘انکا  مزید کہنا تھا کہ احتجاج کا دائرہ کار بڑھا کر سڑکوں پر نکل کر بھی احتجاج کیا جائے گا ۔

پنجاب اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر علی حیدر گیلانی کا ہتک عزت قانون پر گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ’’ ہتک عزت بل کے حوالے سے پیپلز پارٹی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا اور نہ ہی ہمیں بل دکھایا گیا گورنر کی رخصت کا فائدہ اٹھا کر قائم مقام گورنر سے بل دستخط کروا لیے گئے۔ پیپلزپارٹی شروع دن سے اس بل کی مخالف ہے ۔‘‘

دوسری طرف ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اسد منظور بٹ کا  ہتک عزت قانون پر گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اس قانون میں کئی چیزوں کی تعریف ٹھیک نہیں کی گئی۔ اس قانون پر نظر ثانی ہونی چاہیے ۔

انسانی حقوق کے وکیل اسد جمال کا وائس پی کے سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اس قانون میں کئی بنیادی انسانی حقوق کو پامال کیا گیا ہے اور بظاہر اسکامقصد اعلیٰ عہدوں پر براجمان لوگوں کو تحفظ فراہم کرنا نظر آرہا ہے ۔

ہتک عزت بل 2024 کا اطلاق پرنٹ، الیکٹرونک اور سوشل میڈیا پر ہو گا،ہتک عزت کے کیسز کے لیے ٹربیونل قائم ہوں گے، جو 6 ماہ میں فیصلہ کرنے کے پابند ہوں گے، ہتکِ عزت بل کے تحت 30 لاکھ روپے تک کا ہرجانہ ہوگا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here