۸ جون ۲۰۲۴

تحریر : عمر باچا


شانگلہ 

ضلع شانگلہ کے علاقہ زڑہ ڈہرئی کے محمد حکیم 16 مئی کوضلع ہیڈ کوارٹرزہسپتال الپوری میں اپنی سولہ سالہ بیٹی کی لاش لے کر پولیس کو رپورٹ کی کہ اُس کی بیٹی نے گلے میں پھندا ڈال کر خودکشی کرلی ہے۔الپوری پولیس کو شک پڑنے پرسیکشن 174 کے تحت انکوائری کا آغاز کیا اور ابتدائی تفتیش میں بچی کے قتل ہونے کے شواہد ملے جس کی بنیاد پر پولیس نے دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج کیا۔

ضلعی پولیس آفیسر عمران خان نے کہاکہ جو ان کا طریق کار ہوتا ہے خودکشی کے واقعات میں سیکشن 174 کے تحت انہوں نے انکوائری شروع کی اور دوران انکوائری جو چیزیں ان کے سامنے آئی جس سے ابتدائی طور پر انہیں شکوک و شبہات پیدا ہوگئے کہ یہ ایک قتل کا مقدمہ ہے، اور بچی کو قتل کیا گیا اس نے خود کشی نہیں کی۔

“ہم نے ایف آئی آر 191 تھانہ الپوری میں درج کیا اور اس کی ہم باقاعدہ تحقیقات کررہے ہیں اور اس میں چار ملزمان نامزد کئے گئے ہیں۔‘‘

مقتولہ ساتویں جماعت کی طالبہ تھی جس کی عمر ایف آئی آر میں 14-15 سال بتائی گئی ہے۔ڈی پی شانگلہ بتاتے ہیں کہ بنیادی طور پر یہ کچھ ان کے گھر کے اندرونی باتیں تھیں جو کہ اس چھوٹی بچے کی علم میں تھیں جس کو چھپانے کیلئے جس تفتیشن میں پہلے اور بعد میں بھی سامنے آئی کہ انہوں نے اس بچی کا قتل کیا۔وہ کہتے ہیں کہ جو چار ملزمان تھے اُن میں دو پولیس نے گرفتار کئے ہیں۔ بنیادی طور پر اس میں چار ملزمان نامزد ہیں مقتولہ کی ماں اور بھابی نے کورٹ سے قبل از وقت گرفتاری حاصل کی ہیں جس کیلئے پولیس عدالت سے گزارش کرے گی کہ اُن کی بی بی اے خارج کردے تاکہ اُن کو بھی گرفتار کیا جاسکے۔

بنیادی طور پر گھر کے اندرونی معاملات تھیں جس پر معصوم بچی کا نا حق قتل کیا گیا اور ان کی پوری کوشش ہوگی کہ ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچاسکے۔شانگلہ میں خواتین کے ساتھ تشدد، قتل کے واقعات کی وجوہات انصاف تک رسائی میں حائل رکاوٹیں ہیں۔

شانگلہ کے ممتاز قانون دان میاں سفیر نے وائس پی کے کو بتایا کہ دراصل شانگلہ میں گزرتے دن کے ساتھ صنفی جرائم میں اضافہ ہورہا ہے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ شعور اور آگاہی کی کمی ہے اور اس کے علاوہ انصاف تک رسائی خواتین کو بہت کم حاصل ہے کیونکہ یہاں کے خواتین تعلیم یافتہ نہیں ہوتے اس وجہ سے ان کو عدالتوں، پولیس، متعلقہ حکام تک رسائی میں مشکلات ہوتے ہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ ان کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ اُن کے حقوق کیا ہے اور کہاں پر اُن کے حقوق کی خلاف ورزی ہورہی ہیں۔15 سالہ طالبہ کو والد، بھائی نے مبینہ طور پر والد کی غیر اخلاقی راز آفشاں کرنے کی ڈر سے قتل کیا اور بعد میں خود کشی کا ڈرامہ رچایا۔

شانگلہ کے پولیس سربراہ، عمران خان نے بتایا کہ لڑکی کے باپ کا کردار ٹھیک نہیں تھا اور ساتھ میں جو اس کے گھر میں عورتوں کے مسائل بھی تھے جو اس چھوٹی بچی کے علم میں آئیں تھیں جس کی وجہ سے پہلے ان کو چھپ رہنے کا کہا گیا مگر وہ بضد تھی اور آفشاں کرنا چاہتی تھی۔

جس کی ڈر سے باقاعدہ پلاننگ کے تحت جیسے کہ اس کا جو بھائی ہے وہ درہ آدم خیل میں کوئلہ کے کان میں کام کرتے ہے لیکن وہ اس دن اس مقصد کیلئے وہ گھر آگئے تھے اور بیوی کے ساتھ ملکر، پہلے انہوں نے کہا تھا کہ مقتولہ نے اپنے دوپٹہ سے خود کو پھانسی دی ہے۔ڈی پی او نے مزید بتایا کہ جو ان کے انکوائری میں چیزیں سامنے آئیں بنیادی طور پر دوپٹہ استعمال نہیں ہوا تھا ایک رسی کا استعمال کیا گیا تھا۔

ریاست کی ذمہ داری ہے کہ شہریوں کو اپنی شکایت کیلئے قریب تر تھانے قائم کریں مگر شانگلہ کے شہریوں کو اپنی رپورٹ کیلئے ایف ائی آے پشاور کے آفس میں جانا ہوتا ہے اور کسی بھی پولیس تھانے میں خواتین ڈیسک موجود نہیں۔میاں سفیر بتاتے ہیں کہ ان مسائل کو آگاہی مہم کے ذریعہ حل کرسکتے ہیں اور اس کے علاوہ تھانوں میں خواتین کے مسائل سننے کیلئے خواتین سٹاف تعینات کرنے چاہئے تاکہ شکایت کنندہ خاتون اپنی ساری بات وہ خاتون پولیس آفیسر کو بتاسکے۔

قانون دان کہتے ہیں کہ اُن کو دراصل اس بات پر حیرت ہوتی ہیں کہ ایف آئی اے ایک ذمہ دار فیڈرل ادارہ ہے اور پیکا 2016 ایکٹ ہے وہ اینفورس کررہی ہے لیکن بدقسمتی سے شانگلہ میں ایف آئی اے کا کوئی تھانہ، کمپلینٹ سیل وغیرہ کچھ نہیں ہےوہ بتاتے ہیں کہ اس کے نتائج یہ ہیں کہ ادھر جتنے بھی سائبر کرائم ہوتے ہیں صنفی حوالے سے، بلیک میلنگ وغیرہ تو اُس کو باقاعدہ طور پر رپورٹ نہیں کیا جاسکتا بلکہ وہ کیسز 376 کے تحت ریپ کا شکل دیتے ہیں اور وہ پھر بعد میں جاکر عدالت میں ثابت نہیں ہوتے اور کہا جاتا ہے کہ یہ ایک ریپ کیس نہیں سائبر جرم تھا تو اُس صورت میں بے چاری عورت کو ریلیف نہیں ملتا اور ملزمان ادھر اُدھر آزاد گھومتے ہیں۔پولیس ریکارڈ کے مطابق مبینہ ملزم محمد حکیم نے 2021 میں بھی اپنے پوتے کا قتل کیا اور پھر عدالت سے بیٹے کے ساتھ صلح کرنے کے بعد رہا ہوگئے تھے تاہم اس دفعہ کیس میں پولیس آفیسر کو مدعی بنادیا گیا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here