۴ جون ۲۰۲۴

تحریر: محمد بلال بصیر عباسی


اسلام آباد

سرگودھا میں پرتشدد ہجوم کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے نذیر مسیح کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے مسیحی برادری اور انسانی حقوق کے کارکنان نے منگل کے روز نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس موقع پر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین پاکستان اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی شخص توہین کا مرتکب پایا جاتا ہے تو یہ ریاست کے ذمہ ہے کہ وہ اس شخص کو گرفتار کر کے قانون کے مطابق سزا دے تاکہ ایسے پرتشدد واقعات سے بچا جا سکے۔آرچ بشپ راولپنڈی اسلام آباد ڈاکٹر جوزف ارشد نے اس موقع پر کہا ہے کہ ابھی مسیحی قوم سانحہ جڑانوالہ کے غم سے نہیں نکل پائی تھی کہ سرگودھا میں ایک اور انسانیت سوز واقعہ ہو گیا ہے۔

ڈاکٹر جوزف کے بقول ایسے واقعات نفرت کا باعث ہیں جس سے معاشرے میں تفرقہ پیدا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ اس واقعے میں ملوث ہیں انہیں کڑی سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کا انسداد ہو سکے۔صوبہ پنجاب کے شہر سرگودھا میں واقع مجاہد کالونی میں 25 مئی کو پیش آنے والے واقعے میں مشتعل ہجوم نے قرآن مجید کے اوراق نذر آتش کرنے کے الزام میں نذیر نامی مسیحی شخص پر تشدد کیا تھا اور اُس کے گھر اور فیکٹری کو آگ لگا دی ۔ تشدد کا شکار نذیر نو روز ہسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد جانبر نہ ہو سکا۔

اس موقع پر سینیٹر خلیل طاہر سندھو نے اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے میں ملوث کرداروں کے چہرے سب کے سامنے ہیں اب ضرورت اس امر کی ہے کہ قانون کے مطابق انہیں سزا دی جائے۔خلیل طاہر سندھو نے سوال کیا کہ نذیر مسیح نے ایک بڑا عرصہ سعودی عرب میں کام کیا اور کیا انہیں ان کے نظریات کے بارے میں علم نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا یہ سب من گھڑت، جھوٹ اور بے بنیاد الزامات ہیں۔

شریک چیئرپرسن ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان منیزے جہانگیر نے اس موقع پر ریاست سے مطالبہ کیا مذہب کے نام پر ہونے والے واقعات میں ملوث عناصر کی سرکوبی کر کے انہیں قرار واقعی سزا دی جائے۔منیزے جہانگیر نے مزید کہا کہ ایک منظم طریقے سے ایسے واقعات گزشتہ کچھ سالوں سے دیکھنے میں آ رہے ہیں جن میں ایک مذہبی سیاسی جماعت متحرک رہی ہے۔

ڈائریکٹر کرسچن سٹڈی سینٹر راولپنڈی بشپ سیمیول نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان ان کا ملک ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ یہاں تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد امن اور بھائی چارے کے ساتھ رہیں۔مسیحی برادری اور سول سوسائٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس واقعے میں ملوث ملزمان کو قانون کے مطابق سزا دے کر ایک مثال بنائیں اور مستقبل میں ایسے واقعات کو روکنے کے لیے اقدامات اُٹھائیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here