سٹاف رپورٹ


لاہور

وفاقی کابینہ نے آج آپریشن عزم استحکام منظوری دے دی ہے لیکن اپوزیشن کی جانب سے مجوزہ آپریشن پر تحفظات برقرار ہیں۔

اس حوالے سے وزیر اعظم آفس نے ایک پریس ریلیز جاری کر کے وضاحت کی کہ عزم استحکام کوئی بڑے پیمانے کا فوجی آپریشن نہیں ہوگا اور نہ ہی اس سے لوگوں کو بڑے پیمانے پر نقل مکانی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے آج پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ عزم استحکام کا مقصد دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا ہے اور اس کا زیادہ فوکس بلوچستان اور کے پی میں ہوگا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ آپریشن عزم استحکام کے کوئی سیاسی عزائم نہیں بلکہ اس سے چند ماہ سے دہشتگردی کی بڑھتی ہوئی لہر کا مقابلہ کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ مرکزی اپیکس کمیٹی نے بائیس جون کو آپریشن عزم استحکام شروع کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد حزب اختلاف نے آپریشن کو مسترد کر دیا تھا۔

اپوزیشن کا مطالبہ ہے کہ اس مجوزہ آپریشن کے خد و خال واضح نہیں ہیں اس لئے جلد بازی میں آپریشن سے گریز کیا جاے۔

قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے سیاسی رہنما کسی بھی نئے آپریشن کی سختی سے مخالفت کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے بھی جب امن کے لئے آپریشنز کے گے تو اس کے نتیجے میں ان کے علاقوں مزید بن امنی اور غربت پھیلی۔

دفاعی تجزیہ کار اور سابق سیکرٹری دفاع لیفٹینٹ جنرل ریٹائر نعیم خالد لودھی نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے کے بغیر آپریشن کامیاب نہیں ہو سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی پوری کوشش ہوتی تھی کہ وہ کسی بھی آپریشن کو شروع کرنے سے پہلے تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیں. واضح رہے کہ جنرل کیانی کے دور میں راہ حق، راہ نجات سمیت چھ بڑے فوجی آپریشن کے گے تھے اور سوات سے طالبان کا قبضہ ختم کیا گیا تھا.

جنرل لودھی کا کہنا تھا کہ پہلے سیاسی استحکام آے گا تو ہی اس کے بعد سیکورٹی اور معاشی استحکام آ سکتا ہے۔

پاکستان نے اس نئے آپریشن کا اعلان ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب اس کو افغانستان سے مبینہ دار اندازی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے سابق ممبر قومی اسمبلی اور نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ محسن داوڑ نے وائس پی کے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مجوزہ آپریشن کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ افغانستان میں موجود طالبان حکومت پاکستان کے طالبان کی پشت پناہی کرتی ہے۔

ان کا کہنا تھا ابھی بھی طالبان کو ختم کرنا پاکستان کی ریاست کا ارادہ نہیں ہے اور اگر دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پہلے نیت ٹھیک کرنا ہوگی۔

محسن داوڑ کا مزید کہنا تھا کہ جب تک پاکستان کا افغان طالبان کے حوالے سے رویہ تبدیل نہیں ہوگا تب تک پاکستان کے اندر امن قائم نہیں ہو سکے گا ۔

پاکستان نے نئے آپریشن کا اعلان وزیر اعظم کے دورہ چین اور چینی وفد کے دورہ پاکستان کے فوری بعد کیا جس کہ بعد بعض سیکورٹی مبصرین عزم استحکام کو چین کے سیکورٹی خدشات سے جوڑ رہے ہیں۔

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے سینئر صحافی اور سیکورٹی امور کے ماہر زاہد حسین کا کہنا تھا کہ چینی شہریوں پر حملے کی وجہ سے پاکستان میں سیکورٹی کے حوالے سے ایمرجنسی کی کیفیت پیدا ہو گی تھی لیکن پاکستان کو طریقے کار وہ اختیار کرنا چاہئے جو اس کے مفاد میں ہو۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here