۲۰ جون ۲۰۲۴

سٹاف رپورٹ


لاہور

صحافی خلیل جبران کے قتل کے خلاف لنڈی کوتل ،جمرود، باڑہ اور پشاور پریس کلب کے باہرصحافتی تنظمیوں کے احتجاجی مظاہرے ۔مظاہرین نے سیاہ پرچم اور پلے کارڈز اٹھائے حکومت کے خلاف شدید نعرہ بازی کی ۔صحافیوں کا قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کرکہ کیفرکردار تک پہچانے کا مطالبہ۔مقامی صحافی اور لنڈی کوتل پریس کلب کے سابق صدر خلیل جبران کو عید کے دوسرے روز نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے قتل کر دیا تھا۔جنرل سیکرٹری باڑہ پریس کلب کا وائس پی کے سے گفتگو کرتے ہوے حکومت سے مطالبہ کیا کہ خلیل جبران کو شہدا پیکج میں شامل کر کہ فیملی کو ایک کڑور کا معاوضہ دیا جائے۔انکا مزید کہنا تھا کہ ’’ خلیل جبران ایک سچا صحافی تھا جس نے عوامی مسائل پر حکام کی توجہ دلائی ۔‘‘

احتجاج میں شریک صحافیوں نے خلیل جبران کے قتل کے واقع کی مذمت کرتے ہوے حکومت کا صحافیوں کو تخفظ دینے کا مطالبہ کیا۔پولیس کے مطابق خلیل جبران دوست کے ساتھ ڈنر کرنے کے بعد اپنی گاڑی میں گھر واپس جا رہے تھے کہ راستے میں ملزمان نے انہیں کر فائرنگ کرکے قتل کردیا۔ ایسوسی ایشن آف الیکٹرونک میڈیا ایڈیٹرز اینڈ نیوز، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس، لاہور پریس کلب، بلوچستان یونین آف جرنلسٹس، اور دیگر صحافتی تنظیموں نے بھی صحافی خلیل جبران کے قتل کی شدید الفاط میں مذمت کی۔

دوسری جانب وزیر اعلٰی خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے صحافی خلیل جبران کے قتل پر افسوس کا اظہار کیا اور ہدایت کی ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کو یقینی بنایا جائے، گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بھی صحافی خلیل جبران کے قتل پر افسوس کا اظہار کیا۔

اس کے علاوہ صدر مملکت آصف علی زرداری نے بھی صحافی خلیل جبران کے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے قاتلوں کی گرفتاری کیلیے ہر ممکن اقدامات کی ہدایت کردی۔اپنے بیان میں آصف زرداری نے کہا کہ خلیل جبران کے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کیلئے ہر ممکن کوشش کرنا ہوگی، پاکستان میں صحافیوں کے تحفظ کیلئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here