۴ جون ۲۰۲۴

سٹاف رپورٹ


پشاور

یونیورسٹی آف مالاکنڈ کے طلباء اور آرٹ اور تنقیدی سوچ کے فروغ کے لئے کام کرنے والا ادارہ مفکورہ نے طالبعلم موسیٰ خان کی ہلاکت کے واقعہ کے خلاف مالاکنڈ اور پشاور میں احتجاج مظاہرے کئے گئے۔مظاہرین نے یونیورسٹی انتظامیہ کو موسیٰ کی موت کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے پرووسٹ، چیف پراکٹر ،ڈپٹی چیف پراکٹر اور دیگر زمہ داروں کو ملازمت سے برخاست کرنے کا مطالبہ کرد یا۔شعبہ جرنلزم کا طالبعلم موسیٰ گزشتہ دنوں اس وقت موٹر سائیکل حادثے میں جاں بحق ہوا جب اسے رباب لانے کی پاداش شوکاز نوٹس دے کر ہاسٹل سے نکال دیا گیا۔
مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے الزام عائد کیا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے رباب لانے پر طالبعلم کے خلاف کاروائی کی تھی جس سے طالبعلم موسیٰ ذھنی دباؤ کا شکار تھا۔مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ یونیورسٹی میں تدریسی سرگرمیوں کے ساتھ تفریحی سرگرمیوں کی بھی اجازت دی جائے اور واقعہ میں ملوث حکام کے خلاف جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کر دیا۔
واضح رہے کہ مالاکنڈ یونیورسٹی کے چیف پراکٹر نے 29 مئی کو یونیورسٹی کے 3 طلبا کو شوکاز نوٹس جاری کیا۔ شو کاز نوٹس میں درج ہے کہ 25 مئی کو موسیٰ خان، اشرف علی اور وقاص خان رباب لے کر یونیورسٹی میں داخل ہوئے اور یہاں رباب بجا کر طلبا کا جمع کرنے کی کوشش کی۔یونیورسٹی کے شوکاز نوٹس کے بعد اسی روز یعنی 29 مئی کو ہی پروسٹ نے ایک حکم نامہ جاری کیا جس میں ان 3 طلبا کے ہاسٹل میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی۔
پولیس کے مطابق ٹریفک حادثہ چکدرہ چوک پر پیش آیا جہاں مالاکنڈ یونیورسٹی کے 3 طلبا موٹر سائیکل پر جا رہے تھے کہ گاڑی کے ساتھ ٹکرا گئے جس کے نتیجے میں تینوں زخمی ہو گئے۔ ان میں سے موسیٰ نامی ایک طالب علم کو شدید زخمی حالت میں پشاور اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے زندگی کی بازی ہار گیا۔
دوسری طرف خیبر پختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں اسپیکر بابر سلیم نے رولنگ دی کہ معاملہ کی انکوائری تک پرووسٹ اور چیف پراکٹر کو معطل کیا جائے۔ اسپیکر نے کہاکہ مالاکنڈ سے پشاور تک بچے کو لایا گیا لیکن علاج نہیں ہوا اس میں جو جو ملوث ہیں ان کو معطل کرکے رپورٹ دی جائے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here