۲۸ جون ۲۰۲۴

سٹاف رپورٹ


لاہور

پشاور میں جمعرات کو جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ف) کے زیر اہتمام ’گرینڈ قبائلی جرگے‘ نے آپریشن عزم استحکام کی مخالفت کرتے ہوئے قبائلی اضلاع میں افغانستان سے متصل سرحدوں کو کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں ہونے والے جرگے میں قبائلی اضلاع کے مشیران نے شرکت کی۔جرگے کے اختتام پر ایک متفقہ قرارداد میں قبائلی اضلاع میں آپریشن عزم استحکام کی مخالفت کرتے ہوئے ریاست سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنی آئینی و قانونی ذمہ داری پوری کر کے قبائلی علاقوں میں امن قائم کرے۔

جرگے کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے سربراہ جے یو آئی ف مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ’’ کہ امن وامان کےحوالےسےصورتحال بہت گھمبیرہے، مسلح لوگ کئی علاقوں میں پھیل چکےہیں،مغرب کےبعد ہمارےجنوبی اضلاع میں پولیس تھانوں میں محصورہوکررہ جاتی ہے ۔انکا مزید کہنا تھا ’’ کہ کبھی ریاستوں کےمعاملات عجلت سےطےنہیں ہوتے، عزم استحکام کےحوالےسےجوپارلیمنٹ انہوں نےبنائی اس کوبھی اعتماد میں نہیں لیا گیا، آپریشن کی ماضی کی روایات توناکامی کےسوا کچھ نہیں۔‘‘

اس سے قبل بدھ کے روز پشاور میں پی ٹی آئی کے زیر اہتمام ’قبائلی امن جرگہ‘ نے بھی عزم استحکام آپریشن کی مخالفت کی۔ پشاور میں پاکستان تحریک انصاف کے زیر اہتمام گرینڈ قبائل امن جرگہ سے پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سمیت قبائلی ارکین قومی و صوبائی اسمبلی اور قبائلی عمائدین نے شرکت کی۔

اور جرگہ میں قرداد منظور کی گئی جس میں آپریشن آپریشن عزم استحکام کی مخالفت کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ کسی بھی اپریشن سے پہلے پارلیمنٹ،پارلیمنٹرین اور آپریشن والے علاقوں کے عوام کو اعتماد میں لیا جائے ۔ قرارداد میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ قبائلی عوام کا تجارت کا ذیادہ تر انحصار افغانستان پر ہے اس لئے افغانستان کے ساتھ تمام تجارتی راستے کھول دئے جائے۔اس کے علاوہ قرارداد میں عمران خان کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا گیا۔

یاد رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے ۲۲ جون کو نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں انسداد عسکریت پسندی کے لیے آپریشن ’عزم استحکام‘ کی منظوری دی تھی۔اجلاس کے بعد وزیر اعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ’’آپریشن عزم استحکام کو شروع کرنے کی منظوری پاکستانیوں کے عسکریت پسندی کے خاتمے کے قومی عزم کی علامت ہے۔ آپریشن عزم استحکام ایک جامع اور فیصلہ کن انداز میں ملک میں انتہا پسندی اور عسکریت پسندی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے کوششوں کے متعدد خطوط کو مربوط اور ہم آہنگ کرے گا۔‘‘

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here