۹ جون ۲۰۲۴

تحریر :اعتزاز ابراہیم


لاہور

ڈیرہ غازی خان خاتون کی ناک کاٹنے کی کوشش کرنے کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کر لیا، ایک ملزم گرفتار ۔ ویڈیو وائرل ہونے سے قبل خبرکو منظرعام پر لانے والے صحافی پر مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

ڈیرہ غازی خان کے نواحی علاقے شاہ صدر دین میں مبینہ طور پر گزشتہ ماہ خاتون پر تشدد کرنے اور ناک پر چھری پھیر کر زخمی کرنے کا واقع پیش آیا ۔ واقع کی ویڈیو گزشتہ دنوں منظر عام پر آنے اور نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس کے نوٹس لینے پر پولیس نے 6 جولائی کو واقعہ کا مقدمہ درج کیا۔ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے سے قبل گزشتہ ماہ 19 جون کو خبر منظر عام پر لانے والے مقامی صحافی جاوید صدیقی پر پولیس نے خبر کو جھوٹی قرار دے کر مقدمہ درج کیا تھا۔

جاوید صدیقی وال سکرین شارٹ
جاوید صدیقی پر ایف آئی آر

صحافی جاوید صدیقی پر درج کی گئی ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا کہ جاوید صدیقی نے سوشل میڈیا پر کہا تھا کہ شاہ صدر دین میں ذرائع کے مطابق دو روز قبل دو خواتین ( شہراں بی بی ، سلمی بی بی) کی ناک کاٹ دی گئی اور پولیس کی طرف سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی ۔ پولیس نے تحقیقات کیں اور ان خواتین سے رابطہ کیا تو انہوں نے واقع کی تردید کی۔جھوٹی خبر پھیلانے پر صحافی جاوید صدیقی پر مقدمہ درج کیا جائے۔

صحافی جاوید صدیقی کا وائس پی کے سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ” یہ واقع عید الاضحی سے دو یا تین دن روز قبل پیش آیا ۔ مجھے میرے سورس نے خبر دی اور میں نے خبر فیسبک پر شیئر کی ۔ جس کے بعد ایس ایچ او شاہ صدر دین نے کال کر کے مجھے کہا کہ آپ کی خبر جھوٹی ہے پوسٹ ڈیلیٹ کریں ورنہ آپ کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ میں اپنی خبر پر قائم رہا۔ میں نے تمام ثبوت بھی ان کے حوالے کئے ۔ لیکن پولیس والے ملزمان کے ساتھ پیسے لے کر ڈیل کر چکے تھے۔ اور ان کے خلاف کارروائی کرنے کی بجائے میرے اوپر ہی مقدمہ درج کر دیا گیا ۔ اور ملزمان کو چھوڑ دیا گیا۔‘‘

صحافی جاوید صدیقی کی خبر کے بعد ڈی پی او ڈیرہ غازی خان سید علی کے آفس میں شہراں بی بی اور سلمی بی بی کے ساتھ ملاقات کے بعد ان خواتین کا ویڈیو بیان جاری کیا گیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھ اس قسم کا کوئی واقع پیش نہیں آیا اور خبر جعلی ہے۔

واقع کی ایف آئی آر

جب کہ گزشتہ دنوں واقع کی ویڈیو منظر عام پر آنے پر تھانہ شاہ صدر دین نے شہراں بی بی جو اس سے قبل واقع کی تردید کر چکی تھی، کی ہی مدعیت میں مقدمہ درج کیا۔ایف آئی آر کے متن کے مطابق شہراں بی بی کی چھوٹی بہن سلمی بی بی کو ظفر لاشاری، صفدر اور دو نامعلوم افراد اغوا کر کے نامعلوم مقام پر لے کر گئے اور دوستی نہ قائم کرنے پر چھری سے ناک کاٹنے اور ڈرانے دھمکانے کی کوشش کی اور ویڈیو بنائی۔ ایف آئی آر میں کہا گیا کہ واقعہ سات سے آٹھ ماہ پہلے کا تھا اور سلمی بی بی خوف کی وجہ سے چپ رہی اور بالآخر پریشانی کا عالم برداشت نہ کر سکی اور واقعہ بیان کر دیا۔

ترجمان ڈیرہ غازی خان پولیس حماد یاسر نے وائس پی کے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ” ویڈیو منظر عام پر آنے اور شہراں بی بی کی شکایت پر دو نامزد اور دو نامعلوم افراد پر مقدمہ درج کیا گیا ہے جس میں سے ایک ملزم صفدر کو گرفتار کر لیا گیا ہے‘‘ ۔

واقع کی خبر دینے والے صحافی جاوید صدیقی پر مقدمہ درج کرنے اور ڈی پی او آفس میں ویڈیو بیان جس میں واقع کو جھوٹا قرار دینےاور پولیس کا واقع کو دبانے کی کوشش کرنے کے سوال پر حماد یاسر کا کہنا تھا کہ ” اس میں پولیس کا قصور نہیں کہ پہلے ان بہنوں کے طرف سے ڈی پی او آفس میں آکر واقع کو جھوٹا کہا گیا اور اب خود اس واقعے کا اعتراف کر کے مقدمہ کیا گیا ۔ اس الزام میں کوئی صداقت نہیں کہ پولیس نے پیسے لیے اور معاملہ دبایا ۔ صحافی جاوید صدیقی کے کیس میں تحقیقات جاری ہیں کہ واقعہ آٹھ ماہ پہلے ہوا یا جب صحافی نے خبر دی تب ہوا ۔‘‘

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here