٥ جولائی ۲۰۲۴

سٹاف رپورٹ


لاہور

کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے ایک شخص کی جانب سے اپنی سابقہ بیوی کو دیے گئے تحائف کی واپسی کی درخواست مسترد کر دی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ شوہر اور اس کے اہلِ خانہ کی جانب سے شادی کے دوران اور بعد میں دیے گئے تمام تحائف قانونی طور پر بیوی کی ملکیت ہوتے ہیں۔

یہ درخواست شفیق ارائیں کی طرف سے دائر کی گئی تھی، جس نے اپنے فیملی کورٹ کے ایک کیس میں اپنی سابقہ بیوی کے حق میں دیے گئے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔ جسٹس ذولفقار احمد خان کی سربراہی میں ایک رکنی بینچ نے یہ درخواست ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دی۔

درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا تھا کہ متعلقہ فورمز نے شواہد کی درست طریقے سے تشریح نہیں کی، اس لئے اس معاملے کو دوبارہ رٹ کے دائرہ اختیار میں جانچا جائے کیونکہ قانون میں مزید اپیل کی گنجائش نہیں ہے۔ تاہم عدالت نے اس دلیل کو مسترد کر دیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ویسٹ پاکستان فیملی کورٹ ایکٹ 1964 کی دفعہ 5 کے تحت خاندانی عدالتوں کو مکمل اختیار ہے کہ وہ شیڈول میں درج معاملات پر سماعت کریں اور ان کا فیصلہ کریں۔ یہ قانون یہ بھی واضح کرتا ہے کہ بیوی کی ذاتی املاک اور اثاثوں کے متعلق مقدمات فیملی کورٹس میں ہی دائر کیے جا سکتے ہیں۔

عدالت نے کہا کہ تمام تحائف، جو شادی کے دوران بیوی کو دیے جاتے ہیں، اس کی ذاتی ملکیت بن جاتے ہیں اور ان کی واپسی کے لیے مقدمہ فیملی عدالت میں دائر کرنا لازمی ہے۔ بینچ نے مزید کہا کہ دلہن کو شادی کے دوران شوہر اور اس کے خاندان کی طرف سے دیے گئے تمام تحائف بشمول “واری” اور دیگر تحائف، بیوی کی ملکیت ہیں اور انہیں واپس نہیں لیا جا سکتا۔

عدالت نے کہا کہ جہیز اور دلہن کے تحائف (پابندی) ایکٹ، 1976 کی بنیاد پر، اعلیٰ عدالتوں نے مسلسل کہا ہے کہ شوہر کی طرف سے دلہن کے تحفے بیوی کی مطلق ملکیت ہیں اور اسے اس سے چھین نہیں سکتے۔

عدالت نے واضح کیا کہ دلہن اپنے تحائف اور دیگر دی گئی اشیاء کی واپسی کا قانونی حق رکھتی ہے اور اس حوالے سے متعدد عدالتی فیصلے بھی موجود ہیں۔ اس سلسلے میں ٹرائل کورٹ نے صحیح طریقے سے سابقہ بیوی کے حق میں فیصلہ کیا ہے۔

عدالت نے مزید کہا کہ دلہن ہمیشہ شادی کے وقت دولہے اور اس کے اہل خانہ کی طرف سے دیے گئے تحائف واپس لے سکتی ہےعدالت نے مزید کہا کہ رٹ درخواست اپیل کے فورم کے طور پر استعمال نہیں ہو سکتی اور اس کا دائرہ کار صرف اس بات تک محدود ہے کہ حکم میں کوئی واضح غیر قانونی عمل موجود ہے یا نہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here