۴ جولائی ۲۰۲۴

تحریر : اعتزاز ابراہیم


لاہور

 جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے جسٹس عالیہ نیلم کی بطور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ تقرری کی منظوری دے دی۔ لاہور ہائیکورٹ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ خاتون جج چیف جسٹس کے عہدے پر فائز ہوں گی۔ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے اجلاس میں چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے عہدے کے لیے تین سب سے سینیئر ججز جسٹس شجاعت علی خان، جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس عالیہ نیلم کے نام شامل تھے جس پر کمیشن نے جسٹس عالیہ نیلم کا انتخاب کیا۔جسٹس عالیہ نیلم سینیارٹی کے اعتبار سے تیسرے نمبر پر تھیں اور اسی وجہ سے قانونی حلقوں میں اس پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔

لاہور ہائیکورٹ بار ایسویسی ایشن کے صدر اسد منظور بٹ کا وائس پی کے سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا’’ کہ سپریم کورٹ نے الجہاد ٹرسٹ کیس میں ایک اصول طے کر دیا تھا کہ چیف جسٹس کی تعیناتی سینیارٹی کے اصول پر ہوگی لیکن اس منظوری میں اس اصول کو مدنظر نہیں رکھا گیا ہم اس منظوری کے خلاف ہیں اور اس کے خلاف احتجاج کریں گے۔‘‘

لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی سابق سیکریٹری صباحت رضوی کا کہنا ہے کہ’’ وہ اس منظوری پر بہت خوش ہیں کہ تاریخ میں پہلی بار کوئی خاتون لاہور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس ہوگی۔ جب بھی کوئی خاتون پدرسرانہ سماج میں کسی بڑے عہدے پر پہنچتی ہے تو اس پر تنقید شروع کر دی جاتی ہے۔‘‘

لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی سابقہ نائب صدر ربیعہ باجوہ کا منظوری پر تنقید کرتے ہوئے کہنا تھا ‘‘کہ سینیارٹی کے اصول کو نظرانداز کر کے تعیناتی کو متنازع کر دیا گیا ہے ۔‘‘

جسٹس عالیہ نیلم نے پنجاب یونیورسٹی لاء کالج سے 1995 میں لاء کی ڈگری حاصل کی جبکہ انہوں نے قانون کے دیگر ڈپلومے بھی کر رکھے ہیں۔ جسٹس عالیہ نیلم 1996 میں بطور وکیل رجسٹرڈ ہوئیں اور 1998 میں ہائی کورٹ جبکہ 2008 میں سپریم کورٹ کی وکیل بنیں۔جسٹس عالیہ نیلم 2013 میں لاہور ہائی کورٹ کی ایڈہاک جج کے طور پر تعینات ہوئیں اور 2015 میں لاہور ہائیکورٹ کی مستقل جج بن گئیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here