ستمبر ٢

انیلہ محمود


 

 

ویسے تو پاکستان  میں  مسلم خواتین رہنمائوں کو بھی کوئی خاص اہمیت نہیں دی جاتی ہے  اور نصاب میں  تو خواتین ہیروز کی کہانیاں بہت ہی  ناپید ہیں – مگر جب اقلیتی خواتین کی بات کرتے ہیں اور خاص طور سے قومی نصاب کو پرکھیں تو پھر صورتحال اور بھی گھمبیر نظر آتی ہے ۔

یہ قوم شاید بھول ہی گیئ ہے اور نصاب میں شامل کرنا تو دور کی بات ،ان کو تو خراج عقیدت بھی پیش نہیں کر پاتے – ان اقلیتی ہستیوں کو جنہوں نے اپنی زندگیاں انسانیت کی خدمت میں وقف کر دیں …جیسے کہ ڈاکٹر میرا فیلبیوس یا  راولپنڈی کے لیپروسی ہسپتال میں برسوں سے کام کرنے والی ڈاکٹر کرس شموٹزر کی کہانی بھی کہیں دکھائی نہیں دیتی۔

اسی طرح 71 سالہ سویڈش کرسچن مشنری برگیٹا المی بے، جنہوں نے زلزلے اور سیالب کے متاثرین کی بہبود اور بحالی کے لیے بھی کام کیا، ہم تو شاید رتھ فائو کو بھی اس جہان فانی سے کوچ کر جانے کے بعد یاد کرنے لگے اور اب  ان کی مختصر کہانی ہمارے تعلیمی نصاب میں شامل ہے۔

سوال یہ   پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان میں سیکنڈری سطح کے تعلیمی نصاب میں اقلیتی خواتین کی نمائندگی غیر متناسب ہے؟ اور اسکی کیا وجوہات ہیں؟

اسی حوالے سے ہم نے خصوصی گفتگو کی ہے ولیم جون پرویز سے جو ایک  سماجی کارکن ہیں۔

پرویز کا کہنا تھا :

“میں سمجھتا ہوں کہ چاہے مینارٹی کی ہو یا میجارٹی کی…خواتین کے حوالے سے ہماری  جو پدر سری سوچ ہے مردوں کی وہ ہمیشہ کارفرما رہی ہے- ہم خواتین کو اس نظر سے دیکھتے ہی  نہیں ہیں جس نظر سے ہم مرد برادری کو دیکھتے ہیں۔ خواتین میں جو مینارٹی کے حوالے سے میں سمجھتا ہوں کہ جو بڑا نام ہے وہ روتھ فائو کا ہے۔ لیکن نیشنل سطح پر ان کو کوئی پذیرائی نہیں ملی۔ ہمارے ہاں بہت کم ریسرچ ورک ہے۔ کرسچن خواتین جو بہت نمایاں کردار ادا کررہی ہیں کسی بھی شعبے میں اس پر ہم ڈھونڈنے جائیں تو آپ کو نہیں ملیں گی-

اقلیتی خواتین کی نصاب میں شمولیت نہ ہونے کے کیا اثرات ہوتے ہیں اس بارے میں پروفیسر اشوک کمار نے بات کی-

“اقلیتی نمائندگی کے حوالے سے جو خواتین کا کردار ہے اگر اس کو نصاب میں شامل کیا جائے تو اس سے نہ صرف اقلیتوں کو فائدہ ہوگا بلکہ اکثریت بھی یہ جانے گی کہ ہمارے محب الوطن پاکستانی جو اقلیتی ہیں ان کا تعلیم کے شعبے کے اندر، کھیلوں کے شعبے کے اندر یا صحت کے شعبے کے اندر یا دیگرشعبہ جات بھی ہیں جن میں خواتین کی بہت زیادہ نمائندگی ہوسکتی ہے- تو لہذا اس کے اندر شامل کیا جائے۔

سکھ خواتین کئی شعبوں میں نمایاں کردار ادا کر چکی ہیں- نصاب میں شامل نہ کرنے میں تعصب کیوں بڑھتا جا رہا ہے؟ پروفیسر ڈاکٹر کلیان سنگھ نے اس کا جواب دیا –

“اقلیت کے نصاب میں خواتین تو بالکل نظر ہی نہیں آرہیں۔ میں خاص طورپر سکھ نصاب کی بات کروں گاکہ وہاں پر خواتین کو ایک سائیڈ پر کردیا گیا ہے۔ حاالنکہ اگر دیکھا جائے تو بہت ساری خواتین ہیں جنھوں نے پاکستان کا نہ صرف نام روشن کیا بلکہ کئی ایسی جگہوں پر معاشرے کی ترقی میں بھی اہم کردارادا کیا۔میں یہ کہوں گا کہ تربیت او ربہتر نصاب کے لئے خواتین کا عملی روپ میں آنا بہت زیادہ ضروری ہے۔

سکھ خواتین کو نصاب میں نہ شامل کرنے سے اقلیتی بچوں پر کیا اثر پڑ رہا ہے اس بارے سطونت کور کہتی ہیں :

“پاکستان میں بسنے والی بہت سی خواتین سماجی طورپر اکثریتی خواتین سے بہت پیچھے ہیں۔ ان کو سماج میں وہ مقام حاصل نہیں ہوا جن کی وہ حقدار ہیں۔ ہماری سکھ ہیرو خواتین کونصاب کو تعلیم کا حصہ بنایا جائے تاکہ طالب علم چاہے وہ اقلیتی ہوں یا اکثریتی ہوں وہ   ہماری سکھ کمیونٹی کے بارے میں آگاہ ہوسکیں۔

ملک میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے لئے اقلیتی خواتین کی نصاب میں نمائندگی بارے پروفیسر مہرداد یوسف کا کہنا ہے ا قلیتی گروپ کی جو نامور خواتین ہیں جنھوں نے سوسائٹیز کے لئے کارنامے سرانجام دیئے ہوں ان کو بھی ،ان کی زندگی کے حاالت کو بھی-

والے سیریس سوچیںcurriculum تدریسی سلیبس میں شامل کیا جائے۔ اس سے ملک میں ہم آہنگی کا ایک ذریعہ بن سکتا ہے۔ اور اگر اس پرتو اچھا ہے۔

پاکستان میں پڑھائے جانے والے نصاب میں کیا کمزوریاں ہیں؟اقلیتی خواتین ہیروز نصاب میں کیوں شامل نہیں ہیں؟

اس سوال کے جواب میں پیٹر جیکب نے بتایا

“پاکستان میں سکولوں میں پڑھائے جانے والے درسی کتب مواد میں ایک کمزوری یہ بھی ہے جومذہبی اقلیت سے تعلق رکھنے والی خواتین ہیں۔ ان کا تذکرہ بہت کم ملتا ہے۔ تو ہونا یہ چاہئے کہ قومی زندگی میں معاشرتی اور ثقافتی زندگی میں حصہ لینے والی ان خواتین کی کامیابیوں اور کاوشوں کا ذکر ہونا چاہئے۔تو اس سے احساس شمولیت بھی ہوگا۔ ہمارے ہاںرنگا رنگی اور نسوانی شمولیت جو ہے جینڈر گیپ بھی کم ہوگا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here