اکتوبر  ١١، ٢٠٢٣

انیلہ محمود


 

پاکستان میں حالیہ سالوں میں اقلیتوں خصوصاَ مسیحی برادری کو کئی بار دہشت گردی اور مذہبی تعصب کا نشانہ بنایاگیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دیگر شعبوں کی طرح موسیقی کا شعبہ بھی اچھے ساز و آواز سے محروم ہو رہا ہے کیونکہ ماضی میں پاکستان کی مسیحی برادری نے اس شعبے میں قابلِ قدر خدمات سرانجام دی ہیں۔ مسیحی گلوکاروں نے نہ صرف پاکستان بلکہ بیرونی دنیا میں بھی ملک کا نام روشن کیا۔

ان قابلِ فخر ناموں میں ایس بی جون (سنی بنجمن جون) کانا م نمایاں ہے۔ انہوں نے فلم، ریڈیو اور ٹیلی aویژن کے لیے بہت سے گیت اور غزلیں گائیں، جن میں ملّی نغمے بھی شامل ہیں۔ ان کے علاوہ سلیم رضا [جن کا اصل نام نوئیل ڈیاس تھا] نے پلے بیک گائیکی کے علاوہ غزلیں بھی بڑی عمدہ گائیں۔ انہیں المیائی گیت گانے پر زیادہ شہرت ملی جیسے کہ ‘یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں’۔ ناقدین کے مطابق اس گیت میں سلیم رضا کا فن واقعی اوج کمال پر تھا۔ اسی طرح ان کے گیت ‘اے دل کسی کی یاد میں ہوتا ہے بے قرار کیوں’ نے بھی بے پناہ شہرت حاصل کی اور آج تک مداحوں کو محصور کیے ہوئے ہے لیکن کہا جاتا ہے کہ سلیم رضا اپنے خلاف امتیازی رویوں سے بد دل ہو کر 1975 میں کینیڈا چلے گئے اور وہیں پر موسیقی کی تعلیم کا ادارہ قائم کیا۔

مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والی آئرن پروین نے بھی اردو اور پنجابی دونوں زبانوں کی فلموں میں خوبصورت گیت گائے۔ انہوں نے میڈم نورجہاں، زبیدہ خانم، کوثر پروین، ناہید نیازی، مالا اور نسیم بیگم کی موجودگی میں اپنے آپ کو منوایا جو کہ آسان کام نہیں تھا۔ اسی طرح اے نیر سے کون واقف نہیں۔ان کا پورا نام آرتھر نیر تھا۔ ان کے مقبول گیتوں کی تعداد بے شمار ہے۔ انہوں نے روبینہ بدر کے ساتھ جو دو گانےگائے، وہ بے پناہ مقبول ہو ئے۔ انہیں پاکستانی کشور کمار بھی کہا جاتا تھا۔

قابل فکر امر یہ ہے کہ اتنے بڑے بڑے ناموں کے باوجودکیا وجہ ہے کہ اب اقلیتی گلوکاروں اور موسیقاروں میں سےکوئی نمایاں نام سامنے نہیں آرہا۔ کیا اس کی وجہ متعصبانہ رویے ہیں؟ یا اس کی وجہ مواقع کی کمی اور موسیقی سے تعلق رکھنے والے سرکاری اداروں کی عدم دلچسپی ہے۔

اس موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے ریڈیوپاکستان کے سابق سپورٹس آفیسر اور گلوکار جوزف گل کہتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے کہ سلیم رضا کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں ہوا۔ ان کے مطابق “ایک وقت ایسا آیا کہ ہماری صف اول کی گلوکارہ نے سلیم رضا کے ساتھ گانے سے انکار کر دیا اور سب میوزک ڈائریکٹروں کو اپنے گھر بلاکر کہا کہ وہ سلیم رضا کو کام نہ دیں۔ ان سب نے گلوکارہ سے عہد کیا کہ وہ سلیم رضا کو پاکستانی فلمی موسیقی سے نکال باہر کریں گے۔ چنانچہ یہی ہوا اور وہ موسیقی سے کنارہ کش ہو گئے”۔

اسی طرح اے نیر صاحب مسیحی تھے اورانتہائی محنتی اور بڑے فنکار تھے لیکن ہمارے موسیقی کے اداروں نے انہیں جلدی قبول نہیں کیا ۔ بہر حال انہوں نے مسلسل ریاضت اور تگ و دو جاری رکھی۔ غزل گلوکار جیکسن گل کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ وہ نصرت فتح علی خان صاحب کے پہلے شاگرد تھے لیکن ایک بانسری نواز نے کہا کہ ہم لوگ برداشت نہیں کریں گے کہ تمہارا نام ریڈیو اور ٹیلی وژن سے نشر ہو۔ اس لیے وہ بھی منظر عام سے ہٹ گئے۔

ان کے بھائی جوزف گل کو شکایت ہے کہ “اتنے بڑے بڑے نگینوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا جو قابلِ مذمت ہے”۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے نئے فن کاروں کے منظرِ عام پر نہ آنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ “آج کل کا نوجوان طبقہ محنت نہیں کرتا”۔ اسی طرح یہ لوگ موسیقی کی باقاعدہ تعلیم بھی حاصل نہیں کرتے اور سکیھیں بھی کس سے کیونکہ “جو لوگ بتایا اور سکھایا کرتے تھے وہ اب کم ہوگئے ہیں”۔ ان کے مطابق موسیقی کے اس زوال کی اہم ترین وجہ اس شعبے سے تعلق رکھنے والے اداروں کا زوال ہے۔ “پہلے زمانے میں ان اداروں نے بڑا کام کیا کیونکہ یہ بڑے مضبوط تھے۔ ریڈیو پاکستان اپنی مثال آپ تھا۔ اس سے ٹیلی وژن کے لوگ بھی نکلے اور فلم کے بھی۔ مگر اب یہ ادارے کمزور ہوگئے ہیں”۔

اسلام آباد کے نواحی قصبے واہ میں واقع یونیورسٹی میں گندھاراچیئرپرمتعین ندیم عمر تارڑ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کے لیے ہمیشہ سے محدود مواقع رہے ہیں کیونکہ ان میں موجود صاحبِ صلاحیت لوگوں کو ہمیشہ مذہبی تعصب کا سامنا کرنا پڑا ہے “یہاں تک کہ افسر شاہی میں موجود کرسچن افسران کے لیے بھی تضحیک آمیز لفظ استعمال کیے جاتے ہیں”۔ ان کے خیال میں مذہبی تنگ نظری پاکستان میں بہت واضح ہے اور مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک یہاں عام ہے”۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اقلیتوں کے خلاف تعصب اور امتیازی سلوک دونوں میں ہی اب مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

اگرچہ ان کا کہنا ہے کہ رابن گھوش ،اے نیر اور بینجمن سسٹرز سبھی نے اقلیتی برادری سے تعلق کے باوجود کافی شہرت پائی لیکن “ان جیسے بڑے فنکاروں کے بارے میں لوگوں کو معلوم ہی نہیں تھا کہ ان کا تعلق کس مذہب سے ہے کیونکہ ان کی پہچان ان کے ٹیلنٹ کی بنیاد پر ہوئی نہ کہ ان کی مذہبی شناخت کے حوالے سے”۔

اس کے برعکس اسلام آباد میں کام کرنے والے ریڈیو پروڈیوسر اور موسیقی کے استاد اکمل شیراز گھمن کا کہنا ہے کہ فن کی دنیا میں اگر کوئی مذہب کی بنیاد پر تعصب قائم کرنا بھی چاہے تو ایسا نہیں کر سکتا۔ ان کے مطابق “جو شخص اچھا گاتا ہے یا اچھا طبلہ بجاتا ہے یا کسی دوسرے ساز کا ماہر ہے اس کا کوئی راستہ نہیں روک سکتا۔ اگر کوئی روکنا بھی چاہے تو یہ ممکن نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اچھی آواز اور اچھے سازندے کی ہر وقت ضرورت رہتی ہے‘‘۔

وہ اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے مختلف فن کاروں کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ” لاہور میں جمی خاں نام کے ایک صاحب استاد شوکت حسین کے شاگرد تھے۔ وہ طبلہ بجاتے تھے۔ اسی طرح عاشر محمود اور جیکسن گل معروف نام ہیں جنہوں نے ریڈیو پاکستان پر یا ٹیلی ویژن پر بہت اچھا گایا۔ اسی طرح بینجمن سسٹرز تھیں۔ سرائیکی گلوکار فقیرا بھگت تھے۔ اب ان کا بیٹا موہن بھگت گاتا ہے۔ جیکسن گل کے بھائی جوزف گل موسیقی کی اچھی جان پہچان رکھتے ہیں۔ وہ ریڈیو پاکستان کے ریٹائرڈ ملازم ہیں۔ ان کے دو بیٹے ہیں جو بہت اچھا گاتے ہیں۔ اس گل فیملی کا استاد نصرت فتح علی خاں سے بڑا قریبی تعلق رہا ہے۔ اسی طرح لاہور میں ایک گلوکارہ صائمہ ممتاز تھی وہ ریڈیو پر بھی گاتی رہیں‘‘۔

البتہ، ان کے مطابق، “یہ ضرور ہے کہ فن اور شوبز کی دنیا میں آپ کو بہت محنت کرنا پڑتی ہے کیونکہ اس میں یہ نہیں ہوتا کہ کامیابی پلیٹ میں رکھی رکھائی آپ کو مل جائے”۔ ان کے خیال میں مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ زیادہ تر معاشرے کے پسماندہ ترین افراد ہوتے ہیں اس لیے وہ لمبی جدوجہد کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔ وہ کرکٹ کی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ “یوسف یوہانہ اور دانش کنیریا جیسے چند ہی غیر مسلم کھلاڑی اس شعبے میں کامیاب ہوئے۔ ان میں سے بھی یوسف یوہانہ بعد میں مسلمان ہو گئے”۔ اقلیتی برادری میں سے جو چند افراد کامیابی کی سیڑھی چڑھ جاتے ہیں ان میں سے بھی کئی کے نام ایسے ہوتے ہیں جن سے ان کی مذہبی وابستگی کا علم نہیں ہوتا۔ وہ اس ضمن میں سلیم رضا، اے ںیر، صائمہ ممتاز اور عاشر محمود جیسے گلوکاروں اور موسیقاروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ “ایسے لوگ معاشرے میں اپنی مذہبی شناخت چھپا کر رکھتے ہیں”۔

اکمل شیراز گھمن کا یہ بھی خیال ہے کہ “ایک زمانے میں ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر فن کی ترویج کے مواقع موجود ہوتے تھے لیکن اب ایسا نہیں ہےکیونکہ پاکستان میں فنی شعبہ ہی ختم ہوتا جارہا ہے”۔ ان کے مطابق، ’’ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس وقت پورے پاکستان میں ایک سارنگی نواز باقی رہ گیا ہے۔ ریڈیو اور ٹیلی وژن بھی اب پہلے کی طرح موسیقی کے پروگرام نہیں ہوتے۔ اس لئے نئے فن کاروں خاص طور پر پس ماندہ طبقوں سے تعلق رکھنے والے فن کاروں کومواقع ہی نہیں مل رہے‘‘۔

وفاقی حکومت کے ثقافتی ادارے لوک ورثہ کی سابقہ ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر فوزیہ سعیدکہتی ہیں کہ ماضی میں ایک فنکار کی پہچان اس کے فن سے ہوتی تھی نہ کہ اس بات سے کہ وہ مسلم ہے یا کرسچن اور پھر اس وقت مواقع بھی زیادہ تھے۔ وہ اپنا ذاتی تجربہ بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ وہ اکثر سندھ سے تعلق رکھنے والے ہندو فن کاروں کی موسیقی فیس بک پر ڈال دیا کرتی تھیں لیکن ’’جب ایک بار کسی نے مجھے کہا کہ آپ کی فیس بک پرہندوؤں کی تصویریں بہت ہوتی ہیں تو میں حیران رہ گئی”۔

ان کا کہنا ہے کہ “ہمارے ریڈیو، ٹیلی وژن اور فلم والوں کو چاہیے کہ وہ معاشرے میں پائے جانے والے تنوع کو برقرار رکھیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے فن کاروں کی حوصلہ افزائی کریں اور اپنے دلوں میں موجود تعصبات کو مٹا دیں”۔

حالیہ دنوں میں گلوگارہ شے گل کا سامنے آنا اور مختصرعرصے میں پاکستان سمیت دنیا بھر میں اپنا ایک مقام بنانا حوصلہ افزا بات ہے۔ البتہ معاشرے کے تعصبانہ رویوں سے شکایت ان کو بھی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here